1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایڈز کی تباہ کاریاں اور خواتین

اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق یہ مہلک بیماری مردوں کے مقابلے میں خواتین اور لڑکیوں میں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

default

امریکی سنگر اور سماجی کارکن عینی لینوکس میکسیکو میں ہونے والی ایڈز کانفرنس کے دوران

خصوصاً غریب ممالک میں پندرہ سے چوبیس سال کی لڑکیاں اس موزی مرض کا شکار ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلقہ ادارے UNAIDS کے ایک محتاط اندازے کےمطابق دہ ہزار سات میں تینتیس ملین افراد اس مہلک بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہےتھے اور ان میں سے آدھی تعداد خواتین کی تھی۔

پاکستان میں ایڈز کی شکار خواتین:

وزارت صحت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پانچ ہزار ایڈز سے متاثر افراد رجسٹر ہیں ۔ جن میں مردوں کی تعداد خواتین سے کہیں زیادہ ہے اور تناسب کے لحاظ سے یہ شرح 7:1 ہے۔ دوسری جانب UNAIDS کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً چھیانوے ہزار افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ اور ان میں سے چالیس فی صد خواتین ہیں۔

Internationale AIDS-Konferenz in Mexico

داود ثقلین ایکشن ایڈ پاکستان سے وابستہ ہیں اور ایڈز سے متعلقہ پروگرام پر کام کر رہے ہیں۔’’ میں اپنے کام کے دوران ایسی بہت سی معصوم، گھریلو خواتین کو ملا ہوں جنہیں یہ انفیکشن اپنے شوہر سے ملی۔ وہ تین چار ماہ گھروں میں بیمار پڑی رہیں۔ گھر والے اسے کبھی ٹی بی سمجھتے رہے اور کبھی کینسر تا ہم ٹیسٹ کے بعد جب یہ بات سامنے آئی کہ وہ HIV رپوزیٹو ہیں تو ان کے شو ہر نے انہیں طلاق دے دی۔ یہ خواتین حکومتی اعداد و شمار کا حصہ نہیں ہیں ۔‘‘ایکشن ایڈ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو کہ پاکستان میں ایڈز متاثرین کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

تبدیلی خون سے ایڈز:

پاکستان میں ایڈز کے پہلے کیس کی تشخیص انیس سو چھیاسی میں ہوئی تھی۔ یہ کیس ممتاز نامی ایک خاتون کا تھا جو کہ متحدہ عرب امارات میں منتقلی خون سے ایڈز کا شکار ہوئی تھیں۔ نور الزمان رفیق ایڈزکے خاتمے اور اس سے بچاو کے ایشیائی نیٹ ورک کے رابطہ کار ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’ زیادہ تر کیسسز جو رپورٹ ہوتے ہیں وہ ان لوگوں کے ہیں جو کہ عرب ممالک سے ڈپورٹ ہوتے ہیں اور واپس پاکستان آ جاتے ہیں۔ ان کے ڈپورٹ ہونے کی وجہ ان کا HIV پوزیٹو ہونا ہے۔ ڈیرہ غازی خان ایک علاقہ ہے جہاں سے زیادہ تر مرد دوسرے ممالک میں کاام کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ اس علاقے میں آٹھ خواتین ایڈز کا شکار ہیں۔ ان خواتین کہ یہ انفیکشن اپنے شوہرسے منتقل ہوا ہے۔ ‘‘

Deligierte der 17. internationalen Aids Konferenz in Mexiko

ستر ہویں عالمی ایڈز کانفرنس کے موقع پر میکسیکو شہر میں خواتین پر تشدد کے خلاف ہونے والے مظاہرے کا منظر


دوسرے ترقی پزیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایڈز کے متعلق معلومات عام نہ ہونے کی وجہ سے اس بیماری کے بارے میں کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ ایڈز صرف غیر قانونی جنسی تعلقات کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور اس بیماری کا شکار زیادہ تر عصمت فروشی کرنے والی خواتین یا جنسی کارکن ہوتی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مہلک بیماری نہ صرف جنسی تعلقات بلکہ خون کی منتقلی یا تبدیلی خون سے بھی بچے، جوان، بوڑھے کسی کو بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایڈز کا وائرس ماں کے دودھ سے بھی نومولود بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ ’’ تقریباً تمام ممالک میں جب بھی ایڈز پر کام شروع کیا جاتا ہے تو فوکس ہمیشہ ہی خواتین جنسی کارکن ہی ہوتی ہیں ۔ ‘‘ داود ثقلین کا مزید کہنا ہے کہ جس طرح ہم دوسری بیماریوں کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں ویسے ہی ایڈز کو ایک بیماری سمجھتے ہوئے اسے چھپانے سے گریز کرنا چاہیے۔

نور الزمان داود بھی اس سے متفق ہیں تاہم وہ کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ پاکستانی معاشرے میں ایڈز سے منسلک رویوں میں تبدیلی آرہی ہے۔’’ پہلے تو خواتین کاسب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اگر شوہر HIV پوزیٹو ہے تو وہ اپنی بیوی کا ٹیسٹ نہیں کرواتا تھا لیکن اب ایک خاتون جو کہ خوذ اس مرض کا شکار ہیں اور ایڈز سے متعلق عوام میں شعور بیدار کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا نام شکریہ گل ہے۔وہ خود لوگوں سے ملتی ہیں اور انہیں قائل کرتی ہیں تہ وہ اب اپنی بیویوں کے ٹیسٹ بھی کروا رہے ہیں۔ یہ ایک تبدیلی پاکستانی معاشرے میں دیکھنے میں آئی ہے۔ ورنہ اس مرض سے جڑی بہت سی باتیں اور امتیازی رویے ہمارا مسئلہ ہیں۔‘‘


حکومت پاکستان کی جانب سے دو ہزار چار میں ایڈز کے حوالے سے ایشیا یا اسلامی دنیا کے کسی ملک میں ہونے والی پہلی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں خواتین میں ایڈز یا جنسی تعلقات کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کے معاملے پر خواتین ، مذہبی رہنماء اور دیگر لوگوں نے کھل کر اپنا موقف پیش کیا تھا۔ جس کے مثبت اثرات پاکستانی معاشرے میں نظر آنا شروع ہو چکے ہیں ۔

شکریہ گل:

انتالیس سالہ شکریہ گل پاک پلس سوسائٹی نامی تنظیم کی سر براہ ہیں جو کہ ایڈزسے متعلق عوام میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے قیام کا سبب شکریہ کا بذات خود اس بیماری کا شکار ہونا ہے۔ وہ گزشتہ اٹھارہ سال سے ایڈز جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہیں۔ انہیں یہ انفیکشن اپنے جیون ساتھی سے ملی تھی ۔ ان کےمطابق ان کے شوہر شادی سے پہلے اور شادی کے بعد بھی کینیا آتے جاتے رہتے تھے۔