1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ایڈز اپنے خاتمے سے کوسوں دور

یونیسیف کے مطابق گزشتہ برس اٹھارہ بچے فی گھنٹہ کے حساب سے ایڈز کے مرض مبتلا ہوتے رہے۔ ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق دنیا ابھی اس بھیانک بیماری کے خاتمے سے بہت دور ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کا کہنا ہے کہ اس تیزی سے بچوں میں اس بیماری کی منتقلی یہ بتا رہی ہے کہ بچوں کو ایڈز کا باعث بننے والے ایچ آئی وی سے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

بھارت: آن لائن مفت کنڈوم کی فراہمی کی اسکیم کامیاب

بھارت میں مفت کنڈومز فراہم کرنے والا اسٹور فعال

فلپائن: اسکولوں میں کنڈوم تقسیم کرنے کا منصوبہ مسترد

جرمنی: ہم جنس پرست مردوں میں ایڈز سب سے زیادہ

جمعے کے روز یونیسیف کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ موجودہ اعداد و شمار سے لگتا ہے کہ سن 2030 تک بچوں میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز کی تعداد تین اعشاریہ پانچ ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

گزشتہ برس دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 37 ملین تھی، جو کینیڈا کی مجموعی آبادی کے برابر بنتی ہے۔ ان میں قریب دو اعشاریہ ایک ملین مریض نابالغ تھے اور یہ تعداد سن 2005 کے مقابلے میں 30 فیصد زائد ہے۔ یونیسیف کے مطابق 10 تا 19 برس کے قریب 55 ہزار جب کہ 14 برس سے کم عمر تقریباﹰ ایک لاکھ بیس ہزار مریض ایڈز یا اس سے متعلقہ وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوئے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق ایڈز سے جڑی وجوہات کی بنا پر موت کی شرح چار برس سے کم عمر بچوں میں سب سے زیادہ ہے۔

یونیسیف کی جانب سے جمعے کو رپورٹ کے اجرا کے موقع پر یونیسیف کے ایچ آئی وی کے شعبے کے سربراہ چیوے لو نے کہا، ’’ایڈز کی وبا اپنے خاتمے سے کوسوں دور ہے۔ یہ اب بھی بچوں اور کم عمر افراد کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ ناقابل قبول ہے کہ مسلسل اتنی تعداد میں بچے ایڈز سے ہلاک ہوں اور ایچ آئی وی کے نئے کیسوں کی روک تھام کے لیے پیش رفت ایسی سست ہو۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 04:38

سرطان کے خلاف طبی ماہرین کو کامیابیاں حاصل

یونیسیف کا کہنا ہے کہ ایڈز سے متاثرہ کم عمر افراد میں ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد سب صحارہ افریقہ کے خطے میں ہے، جہاں ایچ آئی وی سے متاثرہ لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے۔

یونیسیف کے مطابق شیرخوار بچوں میں ایچ آئی وی کی موجودگی کے ٹیسٹ یا علاج بھی مسائل کا شکار ہے اور اس وائرس سے متاثرہ بچوں میں سے نصف ایسے تھے، جنہیں پیدائش کے دو ماہ تک اس وائرس کی جانچ کے عمل سے گزارا نہیں جا سکا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic