1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ایچ آئی وی کے حوالے سے اچھی خبر

ایچ آئی وی کی کی وبا پر 2030ء تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ تر نوجوان لڑکیاں خود کو کس طرح سے اس وائرس سے محفوظ رکھیں گی۔ ابھی تک ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ نئے واقعات افریقہ میں سامنے آ رہے ہیں۔

اس رپورٹ کا آغاز ایک اچھی خبر سے کرتے ہیں: یکم دسبمر کو ایڈز کے عالمی دن کے طور  پر منایا جا رہا ہے اور اس سے قریب ایک ہفتہ قبل ہی اس مرض کے خلاف جنگ میں کامیابیاں کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔  ایڈز کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق  ایچ آئی وی سے متاثرہ تقریباً ساڑھے چھتیس ملین افراد میں سے ہر دوسرے مریض تک رسائی حاصل کرتے ہوئے ان کا علاج معالجہ کیا گیا ہے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً تین ملین زیادہ ہے۔

یو این ایڈز کے سربراہ میشل سیدبی کے مطابق ایچ آئی وی وائرس پر قابو پانے کے حوالے سے اس قدر بہتر امکانات پہلے کبھی حاصل نہیں تھے۔ سب صحارا کے جنوب میں 2015ء میں پچیس ملین انسان اس وائرس کا شکار تھے اور اسی برس ان میں سے تقریباً پانچ لاکھ انتقال کر گئے۔

اس طرح ایچ آئی وی کی شکار تیس فیصد سے کم خواتین کے بچے اس وائرس سے متاثر ہو پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ حمل کے دوران ایچ آئی وی کے بہت کم ہی ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں یو این ایڈز حاملہ خواتین اور نو مولود بچوں کے لیے مزید ٹیسٹ کرانے پر زور دے رہا ہے۔

اب بری خبر: ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ نوجوان لڑکیوں اور عمر رسیدہ افراد کو ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پندرہ اور چوبیس سال کی درمیانی عمر کی تقریباً ساڑھے سات ہزار لڑکیاں ہر ہفتے اس وائرس کا شکار ہوتی ہیں۔