1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایپک سمٹ:مفاد پرستی کے دور میں ایشیا میں آزاد تجارت

ویت نام ایشیا پیسفک اقتصادی تعاون (ایپک) کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس اجلاس میں ایک طرف ’اپنے مفادات پہلے‘ کا نعرہ لگانے والے رہنما بھی موجود ہیں اور آزاد عالمی تجارت کے فائدوں کے حامی بھی۔

مغربی دنیا میں آزاد تجارت پر عدم اعتماد میں حالیہ کچھ برسوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس رجحان کے درپردہ متعدد وجوہات ہیں۔ یورپ میں بین الاوقیانوسی آزاد تجارتی معاہدے کے خلاف حالیہ برسوں میں بڑے عوامی مظاہرے دیکھے گئے ہیں۔ یہ معاہدہ یورپ اور امریکا کے درمیان تجارت کو وسعت دینے سے عبارت ہے اور اگر یہ ڈیل طے پاتی ہے، تو یہ دنیا کی سب سے بڑی تجارتی ڈیل ہو گی۔ تاہم یورپ میں اس معاہدے کے ناقدین کی تعداد بے تحاشا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکا میں ماحولیات، صارفین کے تحفظ اور صحت کے معیارات اس یورپی سطح کے نہیں اور اس ڈیل کے بعد یورپی منڈیوں میں ناقص امریکی اشیا پہنچنا شروع ہو جائیں گی۔ کینیڈا کے ساتھ یورپی ڈیل پر بھی اسی انداز کے تحفظات ظاہر کیے گئے تھے، تاہم تمام تر مظاہروں کے باوجود ستمبر میں اس ڈیل پر عبوری عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

مودی کا دورہء جرمنی: یورپ سے آزاد تجارتی معاہدہ بھی ایجنڈے پر

’آزاد ہانگ کانگ اور تائیوان بطور الگ وطن قابلِ قبول نہیں‘

کینیڈا کے وزیراعظم امریکا کے ایک مشکل دورے پر

جنوری میں عہدہ صدارت سنبھالنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حکم نامے کے تحت اپنے ملک کو ’بین الکاہلی پاٹنرشپ (ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ) یا ٹی پی پی سے باہر نکال لیا تھا۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والی اس ڈیل کو امریکا اور پیسیفک خطے کے درمیان مضبوط تعلقات کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا تھا۔

اس معاہدے میں پسیفک کے خطے کی بارہ اقوام شامل تھیں، جس میں آسٹریلیا، برونائی، کینیڈا، چلی، جاپان، ملائشیا، میکسکو، نیوزی لینڈ، پیرو، سنگاپور، ویتنام اور امریکا شامل تھے۔ اس ڈیل پر عمل درآمد کا مطلب عالمی اقتصادی پیدوار کے چالیس فیصد اور عالمی تجارت کے 26 فیصد کا احاطہ کرنا تھا۔ ٹرمپ اس بابت دلیل دیتے ہیں کہ امریکا اس ڈیل سے بہتر معاہدہ کر سکتا ہے، جس سے اس کے مفادات کو فائدہ پہنچے گا۔

ہیمبرگ میں قائم جرمن ایشیا پیسیفک کاروباری ایسوسی ایشن (OAV)نامی ادارے سے وابستہ ڈینیل مؤلر کا کہنا ہے، ’’ہم اس بابت یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ کثیرالاقومی تجارتی معاہدے شدید مسائل کا شکار ہیں۔ اور اس کا سب سے بڑا شکار ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی اقتصادی قوتیں ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:58

ہینوور صنعتی تجارتی میلے میں شریک پاکستانی نمائش کنندگان

مؤلر کے مطابق ویتنام جیسے ممالک جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کی برآمدات میں نمو ہو اور ان کے ہاں صنعتی شعبے میں ترقی آئے۔ ’’ایسے ممالک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی آزاد تحریک سے استفادہ کریں۔ آزاد تجارتی معاہدوں کو لاحق موجودہ مسائل سے سب سے زیادہ متاثر ایسے ہی ممالک ہو رہے ہیں۔ اسی لیے اب یہ ممالک دیگر جہتوں میں دیکھ رہے ہیں اور متنادل تلاش کر رہےہیں۔‘‘

ویتنام میں جاری ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کا سربراہی اجلاس اسی موضوع پر بحث کر رہا ہے۔ اس اجلاس میں شریک 21 ممالک کی کوشش ہے کہ برآمدی مصنوعات کی ترسیل کے راستے کی رکاوٹیں ختم کی جائیں اور خطے میں آزاد تجارت کی راہ ہم وار ہو۔

DW.COM

Audios and videos on the topic