1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایپک اجلاس: اوباما کی پھر چین پر تنقید

امریکی صدر باراک اوباما نے ایپک کے اجلاس میں بھی تجارتی عدم توازن کے حوالے سے چین کو ہدف تنقید بنایا ہے تاہم چین نے موزوں وقت پر ہی مجوزہ اصلاحات کا اپنا عزم دہرایا ہے۔

default

اوباما کو شکایت ہے کہ چین، کرنسی کی کم قدر اور سستی و وافر افرادی قوت کے بدولت امریکہ کو بہت کچھ برآمد کر رہا ہے جبکہ اتنی درآمدات نہیں کر رہا۔

یہی مدعا انہوں نے جاپان کے شہر یوکوہاما میں جاری ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن ایپک کے اجلاس میں اٹھایا ہے۔ اس سے قبل جی ٹوئنٹی ممالک عالمی تجارت میں توازن کے لئے ہدف مقرر کرنے کی امریکی تجویز مسترد کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز سیول میں اختتام کو پہنچنے والی جی ٹوئنٹی کانفرنس کی اس تجویز میں بھی بنیادی طور پر چین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

چین اور امریکہ کے درمیان موجودہ تناؤ کے بادل ایپک کے اجلاس پر نمایاں طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ باراک اوباما نے اجلاس کے افتتاح میں کہا کہ امریکی عوام کی خوشحالی اور ترقی براہ راست طور پر ایشیا سے جڑی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ ممالک، جن کے پاس ’سر پلس‘ ہے، وہ اس ’غیر صحتمدانہ ایکسپورٹ‘ پر انحصار سے ہٹیں اور اپنی مصنوعات کے لئے ملک کے اندر منڈیاں تلاش کریں۔ امریکہ میں یہ خیال عام ہے کہ چینی بر آمدات نے ہی ان کے یہاں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شکست کو بھی اسی نکتے سے جوڑا جاتا ہے۔

Flash-Galerie APEC Medvedev und Kan

جاپان کے وزیر اعظم ناؤتو کان روسی صدر دمتری میدویدیف سے ملتے ہوئے

اگرچہ واشنگٹن مسلسل بیجنگ کو مورد الزام ٹھہراتا رہا ہے کہ وہ یوان کی کم قدر سے غیر منصفانہ تجارتی فوائد بٹور رہا ہے تاہم کچھ انگلیاں واشنگٹن کی جانب بھی اٹھتی ہیں کہ اس نے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے جو 600 بلین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، وہ بھی غیر منصفانہ تجارتی فوائد کا ہی باعث بنے گا۔

چینی صدر ہوجن تاؤ نے ایپک کے اجلاس میں واضح کیا کہ وہ وقت آنے پر ہی اپنی کرنسی کی قدر کم کرنے اور متوازن تجارت کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائیں گے۔ ہوجن تاؤ کے بقول ابھرتی منڈیوں پر ان کی صلاحیت سے بڑی ذمہ داریاں ڈالنے سے بین الاقوامی تعاون اور عالمی معیشت کا نقصان ہوگا۔

یوکوہاما میں جاری ایپک کے اِس دو روزہ اجلاس کے دوران چینی صدر اور جاپانی وزیر اعظم ناؤتو کان کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی۔ دونوں ممالک کے مابین نایاب قدرتی دھاتوں ’rare earth metals کے معاملے پر تنازعہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح روسی صدر دمتری میدویدیف اور جاپانی وزیر اعظم کے مابین بھی دو طرفہ سیاسی تناؤ کو کم کرنے سے متعلق ایک ملاقات ہوئی ہے۔ ماسکو اور ٹوکیو کے درمیان ایک جزیرے کی ملکیت کا تنازعہ ہے۔ ایپک کے اس اجلاس کا بنیادی ایجنڈہ بین البراعظمی تجارتی تعاون کا فروغ ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس