1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ایپل کا ’ایپلیکیشن ڈیویلمپنٹ سنٹر‘ اب بھارت میں

ایپل کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت میں ایک ایپلیکیشن ڈیزائن اور ڈیویلپمنٹ سنٹر قائم کرے گی۔ کمپنی کے سربراہ ٹم کُک نے یہ اعلان آج بدھ کے روز پہلی مرتبہ بھارت کے دورے پر آنے کے کچھ دیر بعد کیا۔

ہزاروں کی تعداد میں بھارتی ڈیویلپرز ایپل کی مختلف مصنوعات کے لیے ایپلیکیشنز بناتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ منصوبہ بھارتی ماہرین کو ایپل کے لیے کام کرنے میں خصوصی معاونت فراہم کرے گی۔ توقع ہے کہ مذکورہ ڈیویلپمنٹ سنٹر اگلے برس کے اوائل میں بھارت کے شہر بنگلور میں کام کرنا شروع کر دے گا۔

ایپل کمپنی کے سربراہ ٹم کُک کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا بھر میں ’آئی او ایس‘ یعنی ایپل اسمارٹ فون سافٹ وئیر بنانے والی کمیونٹی کے لیے گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایپل کمپنی کے سربراہ ٹم کُک کا مزید کہنا تھا، ’’بنگلور میں اس نئی سہولت کے افتتاح کے ساتھ ہی ہم ڈیویلپرز کو ان آلات تک رسائی دیں گے جن سے انہیں دنیا بھر میں ہمارے صارفین کے لیے جدید اپلیکیشنز بنانے میں مدد ملے گی۔‘‘

اگرچہ ایپل کمپنی کی طرف سے ابھی تک ٹم کُک کے دورہ بھارت کے دوران مصروفیات کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ اس دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ علاوہ ازیں اہم کاروباری شخصیات سے بھی ان کی ملاقات متوقع ہے۔

بھارت سمارٹ فونز کی تیزی سے ابھرتی منڈیوں میں سے ایک ہے تاہم یہاں ایپل کے مقابلے میں ’اینڈرائڈ فونز‘ کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ ایپل کمپنی بھارتی حکومت سے اپنے نئے آئی فونز کی فروخت کی منظوری لینے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ اس کی وجہ غالباﹰ یہ ہے کہ بھارتی صارفین قیمتوں کے معاملے میں زیادہ حساس ہیں۔

ایپل کی اس تجویز پر تا حال کوئی سرکاری ردِ عمل تو سامنے نہیں آیا البتہ ایسا لگتا ہے کہ اسے مقامی صنعت کاروں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فی الحال ایپل فون کے بھارت میں کاروباری حصص 2 فیصد ہیں۔ بھارت جیسے ملک میں، جہاں سمارٹ فون 100 ڈالر جیسی معمولی قیمت میں بھی دستیاب ہیں،ایپل کو اپنی جگہ بنانے کے لیے آئی فون کے سستے ورژن لانا ہوں گے۔

بھارت 1.25 بلین آبادی کا ملک ہے اور ہر ماہ 6 ملین نئے انٹرنیٹ صارفین کی بدولت اب یہ جنوبی ایشیائی ملک گوگل، مائیکروسافٹ اور فیس بُک جیسی کمپنیوں کے لیے مرکز نگاہ بن چکا ہے۔