1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ایپل نے چوری کی، نوکیا کا دعویٰ

فون سازکمپنی نوکیا نے آئی فون بنانےوالی امریکی کمپنی ایپل پرٹیکنالوجی کی چوری کا الزام لگایا ہے اور امریکی عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نوکیا کے مطابق نیا آئی فون اور آئی پیڈ چوری شدہ ٹیکنالوجی سے بنائے گئے ہیں۔

default

دنیا میں سب سے زیادہ موبائل فون فروخت کرنے والی فن لینڈ کی کمنی نوکیا نے گزشتہ برس بھی ایپل پر ایسے ہی الزامات عائد کئے تھے۔ اب اپنے ایک تازہ بیان میں نوکیا نےکہا ہے کہ گفتگو اور ڈیٹا کی ترسیل کی جدید ٹیکنالوجی کو ایپل کمپنی نے اپنے نئے موبائل فونز میں استعمال کیا ہے۔

نوکیا نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر جاری کیا ہے جب صرف ایک روز قبل ہی اس کمپنی نے بلیک بیری اور ایپل کے ساتھ مقابلے کی نئی کوششوں کے تحت سمارٹ فونز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ نوکیا کے مطابق نئے اپیل فونز میں ڈیٹا کو محفوظ کرنے کے لئے فون کے اندر ہی موجود جگہ اور کم حجم کے حامل انٹینا کی تکنیک نوکیا کی تخلیق کردہ ہے۔

iPad / USA / Verkaufsstart

نوکیا کا الزام ہے کہ اپیل اس کی ٹیکنالوجی چوری کر رہا ہے

نوکیا کے پیٹنٹ لائسنسنگ شعبے کے جنرل مینیجر پال میلِن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی امریکہ میں رجسٹر کرائی چکی ہے اور اس کا ستعمال کر کے ایپل کمپنی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

’’نوکیا کا ادارہ موبائل فونز میں جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے حوالے سے نمائندہ حیثیت کا حامل ہے۔ عدالت سے رجوع کرنے کا ہمارا فیصلہ اس ٹیکنالوجی کی حفاظت اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے کیا گیا ہے تاکہ نوکیا کی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی کے غیر قانونی استعمال کو روکا جا سکے۔‘‘

گزشتہ برس بھی نوکیا نے آئی فون کی وجہ سے امریکی کمپنی ایپل کے خلاف ایسے ہی تین مقدمے دائر کر دئے تھے۔ ان مقدمات میں بھی یہی الزامات عائد کئے گئے تھے کہ Apple نوکیا کی متعارف کردہ تکینک اپنے آئی فونز میں استعمال کر رہا ہے۔ Nokia کے اپنے دعووں کے مطابق فن لینڈ کی یہ کمپنی ہر برس تقریبا 40 بلین یورو نئی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری پر خرچ کرتی ہے اور وہ گزشتہ 20 برسوں سے بین الاقوامی پیٹنٹ ادارے میں اپنی ٹیکنالوجی رجسٹر کروا رہی ہے۔

واضح رہے کہ ٹیکنالوجی مارکیٹ میں مختلف کمپنیوں کی طرف سے ایسے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس ایپل نے اپنے ایک دعوے میں جی میل سمارٹ فونز میں اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال کا الزام عائد کیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

DW.COM