1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایٹم بم کی وجہ سے پاکستان بچا ہوا ہے، قدیر خان

پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق اور متنازعہ شخصیت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کی وجہ اس کا ایٹمی پروگرام ہے۔

default

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

نیوز ویک میگزین کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نےپاکستان کے جوہری پروگرام کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو کسی چیز نے لیبیا یا عراق بننے سے بچایا ہوا ہے تو وہ اس کا ایٹمی پروگرام ہے۔

ڈاکٹر قدیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایٹم بم کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہیں ہوئی ہے۔

’اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ کوئی بھی ایسا ملک جس کے پاس ایٹمی طاقت ہو، وہ جارحیت کا نشانہ نہیں بنا ہے۔ اگر عراق اور لیبیا کے پاس بھی ایٹمی صلاحیت ہوتی تو ان کا یہ حشر نہ ہوتا،‘ عبدالقدیر کے نیوز ویک کے مضمون سے اقتباس۔

Flash-Galerie Atommächte weltweit

پاکستان کا غوری میزائل جو ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے

خیال رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سن دو ہزار چار میں اعتراف کیا تھا کہ وہ جوہری توانائی کی بلیک مارکیٹنگ میں ملوّث ہیں، اور انہوں نے یہ توانائی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو فراہم کی تھی۔ تاہم سن دو ہزار نو میں اپنی نظر بندی ختم ہونے کے بعد وہ اپنے بیان سے مکر گئے تھے اور اب ان کا موقف ہے کہ اس وقت کے صدر پرویز مشرّف نے ان سے زبردستی یہ اعتراف کروایا تھا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان بین الاقوامی سطح پر ایک انتہائی متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کے سیکولر اور لبرل طبقوں میں بھی ان کی شہرت انتہائی خراب ہے۔

خان نے اپنے مضمون میں یہ بھی لکھا کہ پاکستان اکہتر کی جنگ ہرگز نہ ہارتا اگر اس کے پاس اس وقت ایٹمی طاقت ہوتی۔ واضح رہے کہ سن انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی ریاست کی حیثیت سے ظہور پذیر ہوا تھا۔ آزاد ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج اکہتر میں وسیع پیمانے پر جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی تھیں۔

حال ہی میں پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ بحث کی جا رہی ہے کہ کیا پاکستان کے ایٹمی اثاثے اسلامی شدّت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں یا نہیں۔ مبصرین کے مطابق ڈاکٹر قدیر کا یہ مضمون ایک ایسے وقت میں لکھا جانا معنی خیز ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM