1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی: مذاکرات شروع، کئی بڑے ملک غیر حاضر

ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق اقوام متحدہ کے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں لیکن کئی بڑی ایٹمی طاقتیں ان میں شامل ہی نہیں۔ امریکا، روس اور چین جیسے ملکوں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بحث عملی طور پر سود مند ثابت نہیں ہو گی۔

امریکا میں نیو یارک سے منگل اٹھائیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس موضوع پر اقوام متحدہ کی سطح پر مذاکرات کل پیر کو شروع تو ہو گئے لیکن عالمی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل رکن ملک، جو بڑی ایٹمی طاقتیں بھی ہیں، اور جوہری اسلحے کی مالک چند دیگر ریاستیں بھی اس مکالمت کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے ایک نئے عالمی معاہدے کے حامی ملکوں کا کہنا ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو قریب پچاس برس ہونے کو ہیں اور اب ایسے ہلاکت خیز ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بھرپور طریقے سے کوششیں کی جانا چاہییں۔

ٹرمپ امریکی ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کے خواہش مند

ایرانی ایٹمی ڈیل کی منسوخی ٹرمپ کی فاش غلطی ہو گی، جان برینن

شمالی کوریا: نئے ہتھیاروں کے مسلسل اتنے زیادہ تجربات کیوں؟

ان مذاکرات کے آغاز پر ہتھیاروں کے خاتمے کے شعبے کے نگران اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل کم وون سُو نے کہا، ’’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں میں بڑی پیش رفت کی ضرورت آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ اس لیے بھی ضروری ہو چکا ہے کہ آج ایک طرف اگر بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف عوامی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے متعلق عوامی شعور بھی قدرے کم ہو چکا ہے۔

UN-Botschafterin der USA Nikki Haley (picture-alliance/AP Images/S. Wenig)

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکی ہیلی جنرل اسمبلی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

اقوام متحدہ کی سطح پر یہ مذاکرات کل پیر کے روز اس لیے شروع ہو سکے کہ گزشتہ برس اس عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے ایک اجلاس میں 100 سے زائد ممالک نے اس حوالے سے ایک قرارداد کی حمایت کی تھی کہ جوہری ہتھیاروں کو ممنوع قرار دینے کے لیے مذاکرات شروع کیے جانا چاہییں۔ تب ان کوششوں میں آسٹریا، برازیل اور آئرلینڈ جیسے ممالک پیش پیش تھے۔

لیکن اب جب کہ نیو یارک میں اس موضوع پر مکالمت شروع ہو گئی ہے تو امریکا سمیت کئی ایٹمی طاقتیں یہ کہتے ہوئے اس بات چیت کا بائیکاٹ کر رہی ہیں کہ جوہری ہتھیاروں پر کوئی بھی پابندی مؤثر ثابت نہیں ہو گی۔

پاک بھارت تنازعہ: ایٹمی ہتھیاروں کے ’تعمیری‘ کردار کی امید

شمالی کوریا کا ایک اور کامیاب ایٹمی تجربہ، بین الاقوامی مذمت

امریکا، روس، چین اور کئی دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے بتدریج کمی کی سوچ پر عمل کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں ان مذاکرات میں امریکا کی عدم شمولیت کی وضاحت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں امریکی خاتون سفیر نِکی ہیلی نے کہا، ’’ایک ماں اور ایک بیٹی کے طور پر میں اپنے خاندان کے لیے اس سے زیادہ کسی اور شے کی خواہش کر ہی نہیں سکتی کہ یہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو۔ لیکن ہمیں بہرحال حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہو گا۔‘‘

NO FLASH Symbolbild USA geben Zahl ihrer Atomsprengköpfe bekannt (picture alliance/abaca)

ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت امریکا اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں 85 فیصد کمی کر چکا ہے

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ نیو یارک میں کل جب یہ عالمی مذاکرات شروع ہوئے تو جنرل اسمبلی کے چیمبر کے باہر امریکا، برطانیہ، فرانس اور قریب 20 دوسری ریاستوں کے نمائندے وہاں اس لیے جمع ہوئے کہ اس مکالمت کے لیے اپنی مخالفت کا اظہار کر سکیں۔

امریکی سفیر نِکی ہیلی کے بقول اگر جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا کوئی نیا عالمی معاہدہ طے پا گیا تو ہو گا یہ کہ وہ ریاستیں تو خود کو ایٹمی حوالے سے غیر مسلح کر لیں گی جو دنیا میں امن قائم کرتے ہوئے اسے محفوظ رکھنے کی کوششیں کر رہی ہیں جبکہ چند ’برے اداکار‘ اس معاہدے پر دستخطوں سے انکار کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

امریکی سفیر ہیلی کے بقول تب شمالی کوریا جیسے ممالک نہ صرف خوش ہوں گے بلکہ وہ ممالک جو اپنے عوام کو محفوظ رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں، خطرات کا شکار ہو جائیں گے۔ نِکی ہیلی نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت امریکا اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں 85 فیصد کمی کر چکا ہے جبکہ برطانیہ بھی اپنے جوہری اسلحے کے حجم میں 50 فیصد کمی کر چکا ہے۔

نیو یارک میں ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کے جس نئے عالمی معاہدے کے بارے میں بات چیت شروع ہوئی ہے، وہ اگر طے پا بھی گیا، تو اس کا اطلاق صرف انہی ملکوں پر ہو گا جو اس کی توثیق کریں گے۔

DW.COM