1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایٹمی پاور کے پاس ، پاور نہیں

پاکستان الیکٹرک سپلائی کمپنی پیپکو کے مطابق پاکستان میں اس وقت بجلی کی اوسطاً یومیہ طلب 15 ہزار میگا واٹ جبکہ رسد 10 سے 11 ہزار میگا واٹ کے درمیان ہے۔ طلب و رسد کے اسی فرق کے سبب اب عوام کو شدید لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے

default

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف عوام سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے

پاکستان میں بجلی کی طلب و رسد کے فرق کے سبب اب عوام کو شہری علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ جبکہ دیہاتوں میں 12 سے 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ بجلی کے اس بحران نے جہاں عام ٓادمی کو پریشان کر رکھا ہے وہیں پاکستانی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ طویل لوڈ شیڈنگ کے سبب صنعتوں اور کارخانوں کی پیداواری صلاحیت کم رہ گئی ہے۔ صرف صوبہ پنجاب کی 280 ٹیکسٹائل ملوں میں ہزاروں مزدور کام کر رہے ہیں جن میں سے سینکڑوں اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے کے بعد سڑکوں پر حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ملکی معیشت پر لوڈشیڈنگ کے حوالے سے بتایا ”بے روزگاری بڑھ رہی ہے جس سے برآمدات میں کمی ہو رہی ہے اور روپے کی قدر گر رہی ہے ایسی صورتحال میں معیشت پرگہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس سے براہ راست کم آمدن اور روزانہ اجرت والے مزدور متاثر ہو رہے ہیں“

Dream of Light, Afghanischer Film auf der DOK Leipzig

پاکستان کے شہری علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ جبکہ دیہاتوں میں 12 سے 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے

حکومت نے حال ہی میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کےلئے جس قومی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا اس کے تحت منگل کے روز صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں تمام سی این جی سٹیشنز رہے۔ پیپکو حکام کا دعویٰ ہے کہ ہفتے میں ایک دن گیس سٹیشنز بند رکھنے سے پاور پلانٹس کو جو اضافی گیس ملے گی اس سے 600 میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی۔ ادھر سرحد سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر فیاض خان کا کہنا ہے کہ حکومت کو حقیقی اعداد و شمار سامنے لا کر اپنا یہ دعویٰ سچ ثابت کرنا ہوگا ”ہم نے حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دی اس دوران ہفتے میں میں ایک گیس سٹیشنز کی بندش سے توانائی کی کمی میں کوئی واضح فرق سامنے آتا ہے تو حکومت کا یہ احکام سر آنکھوں پر رکھیں گے لیکن میرے ذاتی خیال کے مطابق اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا جب تک حکومت اس بحران پر قابو پانے کےلئے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی۔“

Angra 2 Atomkraftwerk Brasilien

پاکستان دنیا کی واحد جوہری طاقت ہے، جسے توانائی کے اتنے شدید بحران کا سامنا ہے

ملک میں بجلی کی موجودہ پیداوار کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ یعنی ساڑھے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنےوالی نجی کمپنیوں یعنی آئی پی پیز کے ذریعے جبکہ تھرمل کے ذریعے تین ہزار میگاواٹ اور ہائیڈل کے زریعے تقریبا پندرہ سو میگا واٹ بجلی حا آباد صل کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق آئندہ آنے والے مہینوں میں گرمی کی شدت کے باعث بجلی کی مانگ میں اضافہ یقینی ہے اور اگر حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اقدامات نہ کیے تو بجلی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت: عدنان اسحاق