1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایٹمی عدم پھیلاؤ سے متعلق برطانوی منصوبہ

ایران کے تئیں نئے امریکی صدر باراک اوباما کی لچک دار پالیسی کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے پانچ مستقل رکن ملک اور جرمنی، تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مفاہمت اور سفارت کاری کے موڈ میں نظر آرہے ہیں۔

default

جوہری طاقتیں ایران سے مزاکرات کے موڈ میں دکھائی دیتی ہیں

دوسری جانب، برطانیہ نے دُنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کی غرض سے ایک چھہ نکاتی دستاویز تیار کی ہے۔

برطانیہ نے بدھ کی شام ایک ایسی دستاویز جاری کی جس میں دُنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لئے چھہ نکاتی منصوبہ درج ہے۔ اس دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کے ہاتھ نہیں لگنے چاہییں، اور یہ کہ نئے ملکوں کو بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے عمل سے روکا جانا چاہیے۔ اس دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر پابندی کے سلسلے میں گلوبل ٹیسٹ بین ٹریٹی کی ضرورت ہے۔

Mohamed El Baradei

عالمی ایٹمی تونائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادائی

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ میلی بینڈ نے اس پالیسی دستاویز کے حوالے سے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاوٴ کے سلسلے میں بہت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن نیا چھہ نکاتی پروگرام کم از کم کئی برسوں سے جاری تعطل کو ختم کرے گا۔

Lifting the nuclear shadow‘‘ نامی اس دستاویز کو جاری کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگراموں کا بھی تذکرہ کیا۔ میلی بینڈ نے کہا کہ نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے ملکوں پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اب جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ختم ہوجانی چاہیے۔

برطانوی وزیر اعظم گارڈن براوٴن کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اُن کا ملک دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

موجودہ مالیاتی بحران کی وجہ سے گارڈن براوٴن اپنے ملک میں زیادہ مقبول تو نہیں ہیں لیکن دوسرے ملکوں میں اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کے لئے اُن کا احترام کیا جاتا ہے۔ براوٴن، اس سال مارچ میں ایک ایسی کانفرنس کی میزبانی کرنے والے ہیں جس میں ایسے ملکوں کے ساتھ تعاون کیا جانا مقصود ہے، جو غیر عسکری جوہری صنعت کے حق میں ہوں۔

Iran Atom Präsident Mahmud Ahmadinedschad

ایران کا موقف ہے کہ وہ ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے

عالمی طاقتیں دُنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاوٴ پر قابو پانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی جیسے طاقتور ملک ایران سے یہ مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ اپنے متنازعہ ایٹمی پروگرام کو ترک کرے اور اقوام متحدہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔ ایران کا یہ موٴقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پُر امن مقاصد کے لئے ہے لیکن بیشتر صنعتی ممالک ایران کی اس دلیل سے متفق نہیں ہیں۔

دوسری طرف ابھی حال ہی میں ایران کی طرف سے مقامی طور پر تیار کردہ ایک سیٹیلائٹ کا خلاء میں بھیجا جانا بھی مغربی ملکوں کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ یہ سیٹیلائٹ ایران کے میزائل پروگرام میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اُدھر ایران کے روحانی رہنما کے ایک نمائندے نے کہا ہے کہ باراک اوباما کے صدر بن جانے کا یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا ہے کہ اب تہران کے تئیں واشنگٹن کی پالیسیوں میں تبدیلی آئے گی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چھہ مستقل رکن ملکوں اور جرمنی کے اعلیٰ عہدےدار بدھ کو جرمن شہر ویزباڈَن میں ملے اور وہاں تہران کے ایٹمی پروگرام پر تفصیلی بات کی۔

مغربی جرمن شہر ویزباڈَن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے نمائندوں نے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا۔ اعلامیہ میں نئے امریکی صدر باراک اوباما کی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا جس میں اُنہوں نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر تہران کے ساتھ بلاواسطہ مزاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ چھہ ملکوں کے نمائندوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام کا تنازعہ سفارتی سطح پر حل کیا جانا ضروری ہے۔