1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایٹمی طاقتوں کے بغیر ہی ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ

دنیا کے ایک سو بائیس ممالک نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے اولین عالمی معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے حامل نو ممالک نے تاہم اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

UN Hauptquartier in New York (picture-alliance)

ایک سو اکتالیس ممالک نے مشترکہ طور پر اپنی نوعیت کے اس اولین عالمی معاہدے کا مسودہ تیار کیا تھا

اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں اس حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کی ہالینڈ نے مخالفت کی جبکہ سنگاپور نے اپنا ووٹ کا حق استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُن نو ممالک میں سے، جو عسکری حوالے سے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حامل سمجھے جاتے ہیں،  کسی ایک نے بھی اس معاہدے کی حمایت نہیں کی۔ ان ممالک میں امریکا، روس، برطانیہ، چین، بھارت، فرانس، شمالی کوریا، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔

آسٹریلیا، برازیل، میکسیکو، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی قیادت میں ایک سو اکتالیس ممالک نے مشترکہ طور پر اپنی نوعیت کے اس اولین عالمی معاہدے کا مسودہ تیار کیا تھا۔ معاہدے کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کو امید ہے کہ اس طرح جوہری ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک پر تخفیف اسلحہ کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے گا۔

دوسری جانب مسلمہ ایٹمی طاقتوں کا موقف ہے کہ اُن کے ہتھیار خود پر کوئی ایٹمی حملہ ہونے کی صورت میں جوابی مزاحمت یا قومی دفاع کے لیے ہیں اور یہ کہ یہ ممالک اپنے طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی بھی مکمل پاسداری کرتے ہیں۔

جوہری اسلحے کے عدم پھیلاؤ کے عشروں پرانے معاہدے کے تحت ایسے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کی کوششیں تو کی ہی جاتی ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک پر ان کے اسلحے کے ذخائر میں تخفیف پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

تاہم غیر ایٹمی طاقتوں میں این پی ٹی معاہدے پر سست روی سے عمل پر ایسے خدشات اور بے اطمینانی بھی دن بہ دن بڑھ رہے ہیں کہ کہیں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے یہ ہتھیار غلط ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔

جوہری ہتھیاروں سے متعلق نئے عالمی معاہدے کے مسودے پر اس سال ستمبر کی بیس تاریخ تک دستخط کیے جا سکیں گے اور کم از کم پچاس ممالک کی جانب سے دستخط کر دیے جانے کے بعد یہ معاہدہ خود بخود نافذالعمل تصور ہو گا۔

DW.COM