1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایٹمی دہشت گردی کا خطرہ: اقوام متحدہ کی مہم میں تیزی

اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے مطابق دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی مدد سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں میں تیزی ناگزیر ہو چکی ہے۔

default

اسی لیے اس عالمی ادارے نے بھی اپنی اس مہم کو مزید تیز رفتار بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ایٹمی، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کو ایسے دہشت گردوں اور اسمگلروں کی پہنچ سے دور رکھنا ہے، جو انہیں ممکنہ طور پر ہلاکت خیز حملوں کے لیے استعمال کر سکتے ہوں۔

نیو یارک سے موصولہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام متفقہ رائے سے ایک ایسی قرارداد کی منظوری دے دی، جس میں اسی ادارے کی اپریل سن 2004 میں منظور کی گئی ایک قرارداد پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سات سال قبل منظور کی گئی پہلی قرارداد میں اقوام متحدہ کے رکن ملکوں سے، جن کی موجودہ تعداد 192 بنتی ہے، یہ کہا گیا تھا کہ وہ ایسے قوانین متعارف کرائیں، جن کی مدد سے وسیع تر تباہی کا باعث بن سکنے والے ہتھیاروں کے ’غیر ریاستی کرداروں‘ کے ہاتھوں میں آنے کو روکا جا سکے۔

Junge Rekruten bei einer Übung

جرمن فوجی کیمیائی ہتھیاروں سے بچاؤ والے ماسک پہنے مشق کرتے ہوئے

بدھ کو منظور کی جانے والی قرارداد میں سلامتی کونسل نے ایسے تمام رکن ملکوں سے اس بارے میں رپورٹیں بھی طلب کر لیں، جنہوں نے اقوام متحدہ کو تاحال اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی کہ وہ سن 2004 کی قرارداد پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ہاں کیا کیا اقدامات کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل نے اس سلسلے کی اپنی تازہ قرارداد کی دستاویز میں یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ملک کون کون سے ہیں، جنہوں نے ابھی تک اس بارے میں اپنی رپورٹیں پیش نہیں کیں۔ اس نئی قرارداد میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹیں اکتوبر 2004 تک جمع کرانا تھیں، لیکن ’جن ملکوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا، انہیں فوری طور پر ایسا کرنا چاہیے‘۔

اس قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سلامتی کونسل کی اس کمیٹی کے ہاتھ مضبوط بنانا ہیں، جو 2004ء سے اب تک وقفے وقفے سے اسی بارے میں گزشتہ قرارداد پر عملدرآمد کی نگرانی کرتی آئی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس