1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ایٹمی بجلی گھر: ’مَیلٹ ڈاؤن‘ کیا ہوتا ہے؟

جاپانی ایٹمی بجلی گھر فوکوشیما ڈائیچی وَن ایک ایسا بجلی گھر ہے، جس میں پانی کو ابالا جاتا ہے۔ بجلی گھر میں نصب فیول راڈز ایٹموں کی تقسیم کے عمل کے ذریعے حدت پیدا کرتے ہیں۔ اِس حرارت کی مدد سے پانی کو گرم کیا جاتا ہے۔

default

فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر، فائل فوٹو

اِس اُبلے ہوئے پانی کو ایک ٹربائن کے اندر سے گزارا جاتا ہے اور یوں اِس ٹربائن کی مدد سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ ٹھنڈا ہو جانے والے پانی کو پمپ کر کے واپَس ری ایکٹر میں بھیج دیا جاتا ہے، جہاں اُسے پھر سے ابالا جاتا ہے۔

اِس طرح کے ری ایکٹر کا اندرونی حصہ بہت سے لمبے لمبے پائپوں پر مشتمل ہوتا ہے، جن کے اندر فیول راڈز نصب ہوتے ہیں۔ اِن راڈز کے اندر افزودہ یورینیم پڑا ہوتا ہے۔ جب یہ یورینیم تابکاری تقسیم کے عمل سے گزرتا ہے تو بڑے پیمانے پر توانائی خارج ہوتی ہے، جو اپنے آس پاس موجود پانی کو گرم کرتی ہے۔ ساتھ ساتھ توانائی سے بھرپور نیوٹرون خرج ہوتے ہیں، جو قریب ہی نصب فول راڈز میں مزید ایٹمی تقسیم کا باعث بنتے ہیں۔

اِس سارے عمل کو کنٹرول کرنے یا روکنے کے لیے فیول راڈز کےدرمیان کنٹرول راڈز لگائے جاتے ہیں، جو خارج شُدہ نیوٹرونز کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ کسی ایٹمی بجلی گھر کو بند کرنے کی صورت میں اِن کنٹرول راڈز کو حرکت میں لاتے ہوئے ایٹمی تقسیم کے عمل کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تب بجلی گھر ٹھنڈا ہونے لگتا ہے لیکن اِس عمل میں دیر لگتی ہے۔ اُسے جلد ٹھنڈا کرنے کے لیے ہر طرف سے پانی اُس کے اندر پمپ کیا جاتا ہے تاکہ پوری مشینری ٹھنڈی ہوتی جائے۔

Radioaktive Brennstäbe im Kernkraftwerk Philippsburg

ایک ایٹمی بجلی گھر کے اندر کا منظر

اِسی دوران اگر بجلی کی ترسیل منقطع ہو جائے تو معاملہ اور زیادہ نازُک شکل اختیار کر جاتا ہے۔ ری ایکٹر میں درجہء حرارت میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اِس عمل کو روکنے میں ناکامی کی صورت میں دباؤ اور حرارت کے نتیجے میں فیول راڈز کے بیرونی خول یا وہ پورے کے پورے راڈز تباہ ہو سکتے ہیں۔

اِس صورت میں فیول راڈز کے اندر موجود یورینیم اور دیگر جوہری مادے نیچے فرش میں جذب ہونے لگتے ہیں۔ وہاں ایسے ایٹمی دھماکے ہو سکتے ہیں، جنہیں ممکن ہے کہ مزید کنٹرول نہ کیا جا سکے اور جن کے باعث دباؤ اور گرمی میں مزید اضافہ ہو جائے۔ بالآخر پورا ری ایکٹر دھماکے سے پھٹ سکتا ہے، جیسا کہ تقریباً پچیس برس قبل چرنوبل میں ہوا تھا۔ اِس حالت میں ری ایکٹر سے بڑے پیمانے پر تابکاری شعاعیں نکل سکتی ہیں، جو آن کی آن میں ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔

فوکوشیما میں زلزلے کے باعث بجلی کی ترسیل منقطع ہونے سے سکیورٹی انتظامات خلل کا شکار ہو گئے۔ سکیورٹی کا دوسرا مرحلہ یعنی ڈیزل جینریٹرز بھی ناکام رہے۔ ایسے میں ری ایکٹر کو ٹھنڈا کرنے کا کام محض برقی بیٹریوں سے لیا جانا پڑا، جو محض ایک خاص مدت تک ہی کام کر سکتی ہیں۔

اِس ایٹمی بجلی گھر میں گردش کرنے والے پانی کا درجہء حرارت بھی بڑھتا چلا گیا۔ اِس پانی کے بھاپ میں تبدیل ہونے سے دباؤ بھی بڑھتا چلا گیا۔ کسی دھماکے کو روکنے کے لیے سب سے پہلے یہ کوشش کی گئی کہ ہلکی تابکار بھاپ کو باہر کی طرف خارج کیا گیا۔ یہ کوشش محض جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہے۔ ایسے میں ’مَیلٹ ڈاؤن‘ یعنی ری ایکٹر کے بیرونی خول کے پگھل کر تباہ ہونے اور بڑے پیمانے پر تابکاری شعاعیں خارج ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹ: زیبیلے گولٹے / امجد علی

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس