1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایٹا کسی صورت منظور نہیں، ہسپانوی باشندوں کا احتجاج

اسپین میں اگلے ماہ ضلعی اور مقامی سطح پر انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ اس خبرکے بعدکہ ان انتخابات میں ایٹا سے روابط رکھنے افراد حصہ لیں گے، ہسپانوی باشندوں نے زبردست احتجاج کیا ہے۔

default

اسپین کے دارلحکومت میڈرڈ میں دس ہزار سے زائد افراد اس احتجاج میں شریک ہوئے۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ ضلعی اور مقامی سطح پر ہونے والے انتخابات میں باسک علیحدگی پسند تنظیم ایٹا سے کسی بھی سطح پر تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کوحصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے۔

Spanien ETA vekündet Waffenstillstand

ایٹا کئی مرتبہ فائر بندی کا اعلان کر چکی ہے

باسک علیحدگی پسندوں نے فروری کے آغاز میں سورتو’ Sortu ‘ نامی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی ہے۔ سورتو کے رہنماؤں کے مطابق ان کی جماعت مئی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے گی۔

اسپین کی سپریم کورٹ نے مارچ میں سورتو قائم کرنے کے حوالے سے دی جانے والی درخواست کو رد کر دیا تھا۔ عدالت کا موقف تھا کہ سورتو کے پیچھے وہی عوامل کار فرما ہیں، جوکلعدم تنظیم ’باتسوانا‘ کے پس پردہ کام کر رہے تھے۔ باتسوانا کو ایٹا کا سیاسی بازو کو سمجھاجاتا تھا۔ بہرحال سورتو کے پاس آئینی عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار ہے۔

میڈرڈ میں ہونے والے احتجاج کی کال ایٹا کی مسلح کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے دی تھی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایٹا سے وابستہ کسی بھی شخص کو کسی سرکاری عہدے پر نہ بٹھایا جائے۔ سیاسی جماعت سورتو میں بہت سے ایسے چھوٹے گروپس بھی شامل ہیں جواسپین اور فرانس سے خود مختاری حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ان گروپس کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سیاسی دھارے میں شامل کیا جائے تو وہ مکمل طور پر تشدد کا راستہ ترک کر دیں گے۔

Symbolbild ETA Spanien

ایٹا کی مسلح کارروائیوں میں 800سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں

باسک علیحدگی پسند تنظیم ایٹا 1959ء میں قائم کی گئی تھی۔ اپنے قیام کے بعد سے اب تک ایٹا کی جانب سے کئی مرتبہ فائر بندی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ رواں سال جنوری میں ان کی جانب سےکی جانے والی فائر بندی کی یہ گیارہویں اپیل تھی۔ ایٹا کی مسلح جدوجہد کے دوران قریباً 800 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہسپانوی حکومت اور یورپی یونین نے ایٹا کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شامل شمس

DW.COM