1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایودھیا تنازعے پر عدالتی فیصلہ ہماری جیت ہے، بی جے پی

بھارتیہ جنتا پارٹی نے بابری مسجد کے تنازعے پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو اپنی جیت قرار دیا ہے جبکہ بھارتی مسلمان رہنماؤں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

default

عدالتی فیصلے سے قبل امن مارچ

بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کے مسئلے کو قومی سطح پرعام کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے الہ آباد کورٹ کے فیصلے کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس مقام پر مندر تعمیر کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ بی جے پی کے رہنما سابق وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی نے خبر رساں ادارے AFP کو بتایا، ’اس مقدمے کا نتیجہ، ایک عظیم الشان مندر کی تعمیر کے سلسلے میں پہلا قدم ہے۔‘

الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بینچ نے اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے، اس مسجد کو تین حصوں میں تقسیم کیا، جس میں سے دو حصے ہندوؤں جبکہ ایک مسلمانوں کے نام کیا ہے تاہم کئی مسلمان رہنماؤں نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Indien Urteil Ayodhya

عدالتی فیصلے سے قبل ہی ایودھیا میں سکیورٹی سخت ترین کر دی گئی تھی

نئی دہلی جامعہ مسجد کے مرکزی امام سید احمد بخاری نےعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کوجانبدارقرار دیا، ’یہ فیصلہ اندھے اعتقاد کے نتیجے میں کیا گیا ہے نہ کہ ان شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر جو ججوں کو فراہم کئے گئے تھے۔‘

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے سید احمد بخاری نے کہا، ’ہم اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔۔۔ ہم اسی مقام پر دوبارہ بابری مسجد کی تعمیر کے دعویٰ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

مسلمان رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اس مقدمے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کمیونٹی میں اس عدالتی فیصلے پر غصہ پایا جا رہا ہے، ’خدا نہ کرے کہ یہ فسادات میں تبدیل ہو جائے۔‘

اٹھارہ سال پہلے بابری مسجد کے انہدام کے بعد سے اس مقام پر فوجی دستوں کا سخت پہرا ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے قبل بھارت میں بالخصوص حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ ایودھیا میں بیشتر ہندوؤں نے اس فیصلے کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے چراغ جلائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔

Arbeiter wischt den Staub von einem Modell des Rama-Tempels in Ayodhya

رام مندر کا مجوزہ ماڈل

بھارت کے معروف قانون دان راجیو دھاون نے ایک بھارتی ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایودھیا تنازعہ کے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول اگر کوئی کسی جائیداد کو تقسیم کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ وہ آخر کس کی ملکیت ہے، ’یہ ایسا فیصلہ ہے جو عدالت کواس طریقے سے نہیں کرنا چاہئے تھا۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے پر سوال نہیں اٹھا سکتے اور اس مقام کو تین حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM