1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایوانکا ٹرمپ کی آمد پر بھارتی حیدرآباد سے فقیروں کا صفایا

بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں پولیس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ کی آمد سے قبل عوامی مقامات پر گداگری ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔

بھارتی شہر حیدرآباد میں رواں ماہ کے اواخر میں ہونے والی گلوبل انٹر پرائز سمٹ کا افتتاح بھارتی صدر نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ کریں گے۔ یہ کانفرنس نومبر کی اٹھائیس سے تیس تاریخ تک جاری رہے گی جس میں دیگر عالمی رہنما بھی شرکت کریں گے۔

حیدرآباد کے پولیس کمشنر ایم مہندر ریڈی نے رواں ہفتے مبینہ طور پر ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق ایوانکا ٹرمپ کی آمد سے قبل شہر کے فقیروں کے شہر میں عوامی مقامات اور گلیوں میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ گداگر شہر کی ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کے لیے مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔

آج بروز جمعہ ایک سینئیر پولیس افسر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ تحریری نوٹس شہری انتظامیہ کی معمول کی انسداد گداگری مہم کا حصہ ہے اور اس کا ایوانکا ٹرمپ کی حیدرآباد آمد سے کوئی تعلق نہیں۔

مذکورہ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ شہر میں ان فقیروں کے لیے ایک بحالی مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں وہ تب تک رہ سکتے ہیں جب تک ایک نارمل زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔

بھارتی شہر حیدرآباد میں بھیک مانگنے پر یہ پابندی سات جنوری سن 2018 تک جاری رہے گی اور خلاف ورزی کرنے والے فقیروں کو جیل کی سزا یا جرمانہ بھگتنا پڑے گا۔

انسانی حقوق کی کارکن مدھو پورنیما کشور کا کہنا تھا کہ یہ اقدام غربت کو جرم بنانے کے مترادف ہے۔ کشور نے کہا،’’ یہ ظلم ہے۔ کیا اُن کو توقع تھی سمٹ پر آنے والے معززین گلیوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے ان گداگروں سے بات کریں گے؟‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic