1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

این اے 122: الیکشن ٹریبونل کا عمران خان کے حق میں فیصلہ

پاکستان کے الیکشن ٹریبونل نے ملک کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے انتخابی حلقے این اے 122 میں الیکشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وہاں دوبارہ انتخاب کا حکم دیا ہے۔

حلقہ 122 میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے حوالے سے عمران خان کی طرف سے دائر کردہ انتخابی عذرداری کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور میں الیکشن ٹریبونل نے کہا کہ اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے۔ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں این اے 122 کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس کاظم ملک نے یہ فیصلہ آج ہفتہ 22 اگست کو دن ڈھلنے کے بعد سنایا۔ اس وقت ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنان خوشیاں منا رہے ہیں۔ لاہور میں توجشن کا سا سماں ہے، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے جاری ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔

عوامی تحریک کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس خصوصی عدالتی کمیشن کے فیصلے کی نفی ہے جو انتخابی بے ضابطگیوں کی چھان بین کے لیے بنایا گیا تھا۔

پولیس کی بھاری نفری کو الیکشن ٹریبونل کی عمارت کے چاروں اطراف تعینات کر دیا گیا تھا

پولیس کی بھاری نفری کو الیکشن ٹریبونل کی عمارت کے چاروں اطراف تعینات کر دیا گیا تھا

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایاز صادق کے پاس سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق موجود ہے۔ ایاز صادق کے صاحبزادے علی ایاز صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں دھاندلی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ کہا گیا ہے کہ اس دھاندلی کا فائدہ سردار ایاز صادق نے اٹھایا ہے، بے قائدگیوں کا ذکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا یہ حق ہے کہ وہ اس فیصلے کی اعلٰی عدالت کے ذریعے واپسی تک جشن منائے۔

2013ء کے انتخابات میں حلقہ این اے 122 سے 20 امیدواروں نے حصہ لیا تھا لیکن اصل مقابلہ مسلم لیگ نون کے رہنما سردار ایاز صادق اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان میں ہوا تھا۔ ان انتخابات میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کوآٹھ ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری کے ساتھ کامیاب قرار دیا گیا تھا جبکہ عمران خان دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

جولائی 2013ء میں عمران خان نے الیکشن ٹریبونل میں ایاز صادق کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔ اس حلقے میں پڑنے والے ووٹوں کی جانچ نادرا سے بھی کروائی گئی تھی۔اس انتخابی حلقے کے حوالے سے دائر کیے جانے والے کیس کا فیصلہ 17 اگست کو محفوظ کیا گیا تھا۔

توقع کی جا رہی تھی کہ یہ فیصلہ آج ہفتے کی صبح سنا دیا جائے گا، لیکن ہفتے کی صبح سے ہی پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد الیکشن ٹریبونل کے باہر جمع ہوگئی۔ انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقعے پربعض کارکنوں کے مابین ہاتھا پائی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری کو الیکشن ٹریبونل کی عمارت کے چاروں اطراف تعینات کر دیا گیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد الیکشن ٹریبونل کے باہر جمع ہوگئی

پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد الیکشن ٹریبونل کے باہر جمع ہوگئی

لاہور کا حلقہ این اے 122 ان چار انتخابی حلقوں میں شامل تھا جن کو کھولنے کا مطالبہ عمران خان کرتے رہے۔

قبل ازیں لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو بھی فیصلہ ہو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول تین حلقوں میں انتخاب جیتنے کے باوجود این اے 122 کے انتخابی نتائج کو اس لیے چیلنج کیا گیا کہ وہ پاکستان میں الیکشن کے نظام کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔