1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

این اے 120: فیصلے کی گھڑی قریب تر

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے دلچسپ ترین انتخابی معرکے کے لیے میدان سج گیا ہے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر اتوار کے روز الیکشن کی تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔

اس سلسلے میں جمعہ پندرہ ستمبر کی شام این اے 120 کے لیے انتخابی مہم ختم ہونے کے ساتھ ہی کاؤنٹ ڈاؤن بھی شروع ہو گیا ہے۔

میدان میں ہے کون کون؟

قومی اسمبلی کے اس انتخابی حلقے سے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے 44 امیدوار میدان میں اترے تھے۔ لیکن اصل مقابلہ صرف کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد ہی کے مابین ہو گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سابق خاتون اول اور برصغیر کے معروف پہلوان گاما پہلوان کی نواسی 67 سالہ بیگم کلثوم نواز اس حلقے سے انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی فارغ التحصیل بیگم کلثوم نواز نے عملی سیاست میں سرگرمی سے حصہ لینا انیس سو ننانوے میں شروع کیا تھا، جب جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں ان کے شوہر نواز شریف کی حکومت برطرف ہو گئی تھی۔ کلثوم نواز مسلم لیگ (ن) کی عبوری صدر بھی رہی ہیں، وہ آج کل اپنی علالت کی وجہ سے لندن میں ہیں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ان کی انتخابی مہم کی سربراہی کی ہے۔

نواز شریف نا اہل ہی ہیں، نظر ثانی درخواست مسترد

کینسر کا علاج جاری، لیکن کلثوم نواز الیکشن لڑیں گی

اس انتخابی حلقے سے پی ٹی آئی کی امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ کے ایک وفاقی وزیر ملک غلام نبی کی بہو ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور میں گائناکالوجی کی پروفیسر بھی رہی ہیں۔ وہ تھیلیسیمیا کی بیماری کے شکار بچوں کی مدد کے لیے ایک غیر سرکاری فلاحی ادارہ بھی چلاتی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے 2013 کے انتخابات میں اسی حلقے سے نواز شریف کے اکانوے ہزار ووٹوں کے مقابلے میں باون ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔

Pakistan Lahore Wahlkampf Straßenszene

لاہور میں اس وقت این اے ایک سو بیس کے گلی کوچوں میں ہر جگہ انتخابی پوسٹر نظر آتے ہیں

اسی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک سابق رہنما اور معروف صحافی وارث میر مرحوم کے صاحبزادے امیدوار ہیں تو جماعت اسلامی کی طرف سے اسلامی جمیعت طلبہ کے سابق رہنما اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سینئیر نائب صدر ڈاکٹر ضیاا لدین انصاری بھی اس انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

جماعت الدعوہ کی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے اس انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہ مل سکی تھی لیکن اس کے امیدوار قاری یعقوب شیخ، حافظ محمد سعید اور قائد اعظم کی تصاویر کے ساتھ اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

ضابطہ اخلاق پر عمل نہ ہو سکا

اس انتخابی مہم میں الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی دیکھنے میں آتی رہی۔ سیاسی رہنما اور وزراء غیر قانونی طور پر انتخابی مہم چلاتے رہے۔ انتخابی اخراجات کی قانونی حد بھی پیش نظر نہ رہی۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ووٹروں کو تحائف، مفت کھانے اور مفت پٹرول کی فراہمی کی اطلاعات بھی ملتی رہیں۔اس کے علاوہ  ووٹوں کی خرید و فروخت اور زیادہ ووٹوں کے حامل خاندانوں کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی کی باتیں بھی سنی جاتی رہیں۔ اپنے علاقے میں انتخابی دفاتر کھولنے کے نام پر بھی ووٹروں کو نوازا گیا۔ الیکشن کمیشن 29 ہزار کے قریب غیر مصدقہ ووٹروں کی لسٹوں کا مسئلہ بھی حل نہ کر سکا۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے جمعے کی شام تک ان فہرستوں کو پبلک کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

Pakistan Lahore Wahlkampf Straßenszene

حلقے کے بہت سے ووٹروں کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار کی کامیابی کا امکان نہیں ہے

کون کتنے پانی میں؟

اگرچہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی ممکنہ جیت کے دعوے کر رہی ہیں تاہم رائے عامہ کے جائزے بتا رہے ہیں کہ اس حلقے میں اصل مقابلہ مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے مابین ہی ہو گا۔ 1985 کے بعد سے اب تک اس انتخابی حلقے کو نواز شریف کی سیاسی طاقت کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ 1985 سے لے کر اب تک ہمیشہ اس حلقے میں شریف فیملی کا کوئی نہ کوئی امیدوار ہی بھاری اکثریت سے جیتتا رہا ہے۔

نیب کی طرف سے طلبی، کیا نواز شریف کی ساکھ مزید خراب ہو گی؟

نواز شریف کی نااہلی سے جمہورریت مستحکم ہوئی ہے، عمران خان

’نواز شریف نے طبل جنگ بجا دیا‘

اس حلقے میں مسلم لیگ نون کی تین عشروں کی ’پولیٹیکل انویسٹمنٹ‘ ہے۔ نواز شریف 2013 کے الیکشن کے بعد یہاں نظر نہیں آئے تھے۔ حمزہ شہباز اور مریم نواز کے مابین اختلافات کی اطلاعات بھی یہاں عام ہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف، کلثوم نواز اور حمزہ شہباز سمیت شریف خاندان کے لوگ پاکستان میں موجود نہیں۔ کلثوم نواز کے قریبی عزیز اور پنجاب کے صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کو بھی الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود مبصرین کی بڑی تعداد کو مسلم لیگ ن کا پلہ ہی بھاری دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، جن کے مطابق اس مرتبہ اس انتخابی حلقے میں ایک ’بڑا اپ سیٹ‘ دیکھنے میں آنے والا ہے۔

ووٹرز کیا کہتے ہیں؟

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے این اے 120 کے کئی ووٹروں نے ملی جلی آراء کا اظہار کیا۔ لاہور کے ایم اے او کالج کے قریب موجود ایک نوجوان طاہر نے بتایا کہ جملہ شکایات اور سارے پراپیگنڈے کے باوجود وہ مسلم لیگ نون کو ہی ووٹ دے گا۔

لاہور کے عالمگیر روڈ پر موجود چند ووٹروں کا خیال تھا کہ پچھلے چار سالوں میں اس حلقے میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی خاص کوششیں نہیں کی گئیں۔ اس لیے وہ عمران خان کی پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ طارق بلڈنگ کے قریب چھریاں تیز کرنے والے ایک نوجوان عرفان نے بتایا کہ وہ حافظ سعید کی پارٹی کا حامی ہے۔

Pakistan Maryam Nawaz Sharif

کلثوم نواز کی انتخابی مہم ان کی اور نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے چلائی

فرحان نامی ایک اور نوجوان کا کہنا تھا کہ اس کا گھرانہ پیپلز پارٹی کو پسند تو کرتا ہے لیکن ناہید خان کا حمایت یافتہ امیدوار کھڑا ہونے سے رہے سہے ترقی پسند ووٹ بھی تقسیم ہو گئے ہیں۔ اس لیے اس پارٹی نے جیتنا تو نہیں ہے۔ ’’یہی وجہ ہے کہ ہم ووٹ اسے دیں گے، جو ہمارے مسائل حل کرائے گا۔‘‘

  گاما پہلوان کی نواسی پارلیمانی نشست کے لیے  لڑیں گی

’پا کستان میں احتجاج پر بھی ارباب اختیار کا راج‘

کیپٹن صفدر کا نیا متنازعہ بیان، بات ممتاز قادری کے جنازے کی

ڈی ڈبلیو کے ایک سروے کے دوران لاہور میں انارکلی، اردو بازار، ہال روڈ، مال روڈ اور بیڈن روڈ کے تجارتی حلقے زیادہ تر نواز شریف کے حامی نظر آئے۔ دوسری طرف میو ہسپتال، گنگا رام ہسپتال، داتا دربار ہسپتال، منشی ہسپتال اور لیڈی ولنگڈن ہسپتال کے آس پاس کے علاقوں، میڈیکل سٹوروں اور نجی شفا خانوں سے وابستہ افراد کی اکثریت تحریک انصاف کی حامی دکھائی دی۔ خاص طور پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بھی تحریک انصاف کی خاتون امیدوار کے لیے سرگرم نظر آ رہی ہے۔

 Imran Khan Pakistan Tehreek-e-Insaf

عمران خان کے مطابق اتوار کے الیکشن میں ووٹر اپنا ووٹ انصاف اور عدلیہ کے احترام کو دیں گے

تیاریاں مکمل

این اے 120 میں پولنگ کے لیے بیلٹ پیپرز فوج کی نگرانی میں الیکشن کمیشن کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ بیلٹ پیپرز ہفتے کے روز فوج کی نگرانی میں ہی پولنگ اسٹاف کے حوالے کیے جائیں گے۔ پھر فوجی نگرانی میں ہی یہ بیلٹ پیپرز پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچائے جائیں گے۔ اس ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں 220 پولنگ اسٹیشن اور 573 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ اس حلقے کے بیشتر پولنگ سٹیشنوں کو ’حساسُ بھی  قرار دیا جا چکا ہے۔

پاکستان الیکشن کمیشن نے اس ضمنی انتخاب میں بائیومیٹرک مشینوں کے تجربے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جنہیں مخصوص پولنگ اسٹیشنوں پر آزمایا جائے گا۔ اس کے علاوہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے موقع پر رینجرز اور فوج کی ایک بڑی نفری کو بھی تعینات کیا جارہا ہے۔ کئی دوسرے شہروں سے پولیس کی اضافی نفری بھی منگوا لی گئی ہے۔

پی ٹی آئی کے خلاف جنگ یا سیاسی طاقت کا مظاہرہ ؟

دو روزہ ریلی کی قیادت کرتے ہوئے لاہور جاؤں گا، نواز شریف

پاکستان کی نئی وفاقی کابینہ، فوج کے ناقدین نمایاں

الیکشن یا ریفرنڈم

این اے 120 کی انتخابی مہم میں کی جانے والی زیادہ تر تقریروں میں پاناما کیس کی گونج سنائی دیتی رہی۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ اتوار کے الیکشن میں عوام اپنا ووٹ انصاف اور آزاد عدلیہ کو دیں گے۔

Pakistan Lahore Wahlkampf Straßenszene

عرفان نامی اس ووٹر نے بتایا کہ وہ ملی مسلم لیگ کا حامی ہے

انتخابی مہم کے دوران کی جانے والی تقریروں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قمرزمان کائرہ نے کہا کہ حدیبیہ کیس بھی کھل گیا ہے۔ ’’اب شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی باری ہے۔ نواز شریف کو اس لیے نکالا گیا کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں۔‘‘

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا فیصلہ کوئی عدالت نہیں بلکہ عوام کریں گے۔ انتخابی مہم کے دوران لاہور میں ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’آپ کے لیڈر کو انصاف نہیں ملا، اب معاملہ عوام کی عدالت میں آچکا ہے۔ میں نواز شریف کا مقدمہ لے کر آپ کی عدالت میں آئی ہوں۔‘‘ مریم نواز نے کہا کہ عوام کی جے آئی ٹی اور عدالت میں معاملہ آ گیا ہے،تو ’’اب دوٹوک فیصلہ ہوگا۔ نااہلی اور اہلیت کا فیصلہ عوام کریں گے۔‘‘

اس ضمنی انتخاب کا نتیجہ کچھ بھی ہو، اس کے اثرات پاکستانی سیاست پر ضرور پڑیں گے۔ اگر کلثوم نواز جیت گئیں، تو اس سے مسلم لیگ نون کے حامیوں کی طرف سے دیے گئے اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کو عوامی پذیرائی نہیں ملی۔ دوسری طرف اگر مسلم لیگ نون اپنے ہی سیاسی مرکز میں اپنی سب سے مضبوط نشست بھی نہ بچا سکی، تو پھر 2018 کے عام انتخابات میں اس کی ممکنہ کامیابیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

DW.COM