1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

این آر او: فیصلے کے بعد صدر زرداری پر بڑھتا دباؤ

متنازعہ قومی مصالحتی آرڈیننس کے غیر آئینی قرار دیئے جانے کے بعد جمعرات کے روز سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن جماعتیں صدر آصف علی زرداری سے مستعفی ہو جانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

default

ایک طرف نیشنل اکاﺅنٹیبلٹی بیورو عدالتوں کو پنجاب میں قومی مصالحتی آرڈیننس (NRO)کے تحت ختم کئے گئے 44 مقدمات کی بحالی کے حوالے سے کئی درخواستیں موصول ہوئیں تو دوسری طرف عدالت ہی کے حکم کے تحت کئی سرکردہ سیاستدانوں سمیت 250 کے قریب افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی غرض سے وزارت داخلہ کے حوالے کئے گئے۔ اِن میں سے کئی شخصیات کے بینک اکاﺅنٹ بھی منجمد کر دئے گئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے وزیر داخلہ رحمن ملک کو توہین عدالت کے الزام میں 24 دسمبر کو طلب بھی کر لیا ہے جبکہ صدر زرداری نے پارٹی رہنماﺅں سے ملاقاتوں میں تمام مقدمات کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہے۔ تاہم بحیثیت مجموعی صدر زرداری برطانیہ میں سرے محل کی ملکیت ، سوئٹزرلینڈ میں مالی اثاثوں اور ذاتی بینک اکاﺅنٹ میں موجود کئی ارب روپوں کی موجودگی اور انہیں صدارتی انتخاب کے وقت گوشواروں میں شامل نہ کرنے کے باعث قانونی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور اخلاقی گرداب میں بھی گھرتے نظر آ رہے ہیں۔

صدر زرداری سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والوں میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے ارکان کے ساتھ ساتھ وکلاء بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے سابق جسٹس سپریم کورٹ جاوید اقبال کہتے ہیں:’’اگر صدر عوامی ووٹ سے منتخب ہو کر اسمبلی میں آیا ہے اور بعد میں عوام عدم اعتماد کرتے ہوئے اس سے مستعفی ہو کر عدالت میں اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اُس کو مجبوراً یہ کرنا پڑے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ NROکو کالعدم قرار دینا ملکی تاریخ میں ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور اچھی علامت ہے۔“

دوسری طرف مسلم لیگ کے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کی غیر آئینی انداز سے اپنے عہدے سے علٰیحدگی کی مزاحمت کی جائے گی:”صدر صاحب اگر آئین کے تحت اپنا عہدہ چھوڑتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن اس عمل میں کسی بھی غیر آئینی طریقے کی مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت حمایت نہیں کرے گی بلکہ اس کی بھرپور مزاحمت کرےگی۔“

مبصرین کے خیال میں اب دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت صدر زرداری کے غیر اعلان شدہ اربوں روپے مالیت کے اثاثوں کے حوالے سے درخواستیں کب دائر ہوتی ہیں کیونکہ اس آئینی شق کا بنیادی تعلق اراکین پارلیمنٹ اور اعلیٰ عہدوں پر قائم افراد کی اہلیت سے ہے۔

رپورٹ:امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت: امجد علی