1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

این آر او: عوامی نظریں سپریم کورٹ کی جانب

قومی مصالحتی آرڈیننس کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ پاکستان میں اس آرڈیننس کے انتہائی غیر مقبول ہونے کی وجہ سے عوامی نظروں کی مرکز سپریم کورٹ ہے۔

default

سپریم کورٹ اس آرڈیننس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے

سابق صدر پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو اور ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں کی وطن واپسی اور عام انتخابی عمل میں ان کی شرکت یقینی بنانے اور اپنی سیاسی بقاء کی غرض سے 4 اکتوبر2007ء کو جب متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس جاری کیا تو غالباً کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ اجراء کے 26 ماہ بعد بھی ملک بھر کے سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظریں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ایک ایسے آرڈیننس پر مرکوز ہوں گی جو کہ صدر زرداری سمیت کئی رہنماؤں کو ایوان صدر اور ایوان ہائے اقتدار تک پہنچانے کا تو باعث بنا ہے مگر اسے خاص طور پر باضمیر پاکستانیوں کی کثیر تعداد قبول کرنے سے قاصر ہے۔

صدارتی فرمان کے ذریعے کراچی سے خیبر تک 8400 کے لگ بھگ سیاسی رہنماء، بیوروکریٹس اور امراء مستفید ہوئے مگر بزرگ سیاسی رہنماء ڈاکٹر مبشر حسن کے وکیل حفیظ پیر زادہ کے بقول یہ صدارتی فرمان انتہائی امتیازی ہے اور اسے مکمل طور پر ختم ہونا چاہئے: ’’سپریم کورٹ اگر یہ مان لے کہ یہ آرڈیننس آئین کے مطابق تھا پھر بھی 5 فروری2008ء کے بعد اس آرڈیننس کے تحت کوئی مفادات حاصل کئے یا اپنے خلاف مقدمات کو ختم کروا کر بری ہوئے ہیں تو یہ غیرآئینی ہے اور وہ سارے مقدمات ابھی تک زیرالتواء ہیں۔‘‘

سپریم کورٹ میں دلائل کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں حفیظ پیرزادہ اور ڈاکٹر فاروق حسن سمیت اکثر وکلاء نے یہی موقف دہرایا کیونکہ ان کے بقول محض چند ہزار افراد کی خاطر انصاف اور آئین کے تقاضے پامال نہیں کئے جانے چاہئیں۔

سپریم کورٹ کے معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق عدالت عظمیٰ کے اکثر ججوں کے تاثرات اور استفسارات اس امر کا اشارہ دیتے ہیں کہ وہ این آر او کو بنیادی طور پر آئینی یا قانونی دستاویز تصور نہیں کرتے اس کے علاوہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے جمعرات ہی کے روز سپریم کورٹ کے نام این آر او کے خلاف ایک آئینی درخواست کا پہنچنا اور دوسری طرف حکومت کی طرف سے این آر او کے حوالے سے بعض نکات کی وضاحت یا ان کے دفاع سے متعلق تازہ ترین درخواست کے بعد اس کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور اس سے ایوان صدر کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی صفوں میں پیدا ہونے والی ہلچل کا اظہار بھی ہوتا ہے۔

رپورٹ : امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM