1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اینڈی مرے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں پہنچ گئے

برطانوی ٹینس اسٹار اینڈی مرے نے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے جمعہ کو سیمی فائنل میں ڈیوڈ فیرر کو ہرایا ہے۔ فائنل میں اب ان کا سامنا نوواک جوکووچ سے ہوگا۔

default

اینڈی مرے

وہ یہ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہے تو برطانیہ کے لیے مردوں کے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ میں گزشتہ 75 برس کی پہلی فتح ہو گی۔

اینڈی مرے نے جمعہ کے مقابلے میں ڈیوڈ فریر کو چار چھ، سات چھ، (سات دو)، چھ ایک، ساتھ چھ (سات دو) سے شکست دی۔ فائنل اتوار کو ہو گا۔

اُدھر ارجنٹائن کی گیسیلا ڈلکو اور اٹلی کی فلاویا پینیٹا نے آسٹریلین اوپن میں وومنز ڈبلز ٹائٹل جیت لیا ہے۔ انہوں نے ماریا کیریلینکو اور وکٹوریا آزارینکا کو شکست دے کر یہ جیت اپنے نام کی ہے۔

گیسیلا ڈلکو اور فلاویا پینیٹا نے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والی کھلاڑیوں ماریا کیریلینکو اور وکٹوریا آزارینکا کا سامنا جمعہ کو کیا۔ میلبورن میں کھیلا گیا یہ میچ انہوں نے دو چھ، سات پانچ اور چھ ایک سے جیت لیا۔

ڈلکو اور پینیٹا کسی گرینڈ سلیم فائنل کے ٹائٹل کے لیے پہلی مرتبہ یکجا ہوئیں۔ ابتداء میں کیریلینکو اور آزارینکا نے انہیں دباؤ میں لے لیا تھا۔ ایسا لگا جیسے میچ ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہو۔ تاہم بعدازاں وہ جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیل کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

بعدازاں صحافیوں سے گفتگو میں ڈلکو نے کہا، ’ہم ایک سیٹ اور چار ایک سے پیچھے تھے، یہ بہت پریشان کن بات تھی۔ بعد میں ایسا لگا جیسے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ہم (ڈلکو اور پینیٹا) یہی کہہ رہی ہوں، چلو، ہم فائنل میں ایک گھنٹہ سے بھی کم کھیلتے ہوئے میچ ختم نہیں کر سکتیں۔‘

Flavia Pennetta und Gisela Dulko gewinnen Australian Open Doppel 2011

ڈلکو اور پینیٹا

شکست کا سامنا کرنے والی ان مشرقی یورپی کھلاڑیوں نے بھی پہلی مرتبہ کسی بڑے میچ میں ایک ساتھ شرکت کی۔

پینیٹا آسٹریلین اوپن کی ٹرافی حاصل کرنے والی پہلی اطالوی کھلاڑی ہیں۔ جمعہ کے میچ میں جیت سے ڈلکو ڈبلز میں عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر برقرار ہیں جبکہ پینیٹا دوسری پوزیشن پر ہیں۔

دنیا کی ٹاپ ڈبلز ان کھلاڑیوں کو بیلاروس کی آزارینکا اور روس کی کیریلنکو کے خلاف میچ میں جیت سے ساڑھے چار لاکھ ڈالر حاصل ہوئے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس