اینٹی کرپشن کریک ڈاؤن کا خوف، کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی | حالات حاضرہ | DW | 07.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اینٹی کرپشن کریک ڈاؤن کا خوف، کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی

انسداد بدعنوانی کے اداروں کی تیز ہوتی کارروائیوں کی وجہ سے نہ صرف سیاستدان پریشان ہیں بلکہ اسٹاک مارکیٹ کے بروکر بھی خوفزدہ ہیں۔ اسی وجہ سے آج پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تین فیصد کی کمی نوٹ کی گئی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی کراچی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق آج پیر سات ستمبر کے روز کراچی اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتوں میں قریب تین فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ بروکر اور سرمایہ کار ملکی اینٹی کرپشن اداروں کی ان کارروائیوں سے خوفزدہ ہیں، جو انہوں نے ’بلاامتیاز‘ ان تمام شخصیات کے خلاف شروع کر رکھی ہیں، جو کسی بھی بدعنوانی کے کیس میں ملوث ہیں۔

ایک تجزیہ کار اور ٹاپ لائن سکیوریٹیز کے سربراہ محمد سہیل کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’آج اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ یہ افواہیں بنیں کہ مارکیٹ سے منسلک بہت سے لوگوں کی گرفتاری کا خدشہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے بہت سے سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے چین میں اقتصادی ترقی کی سست رفتار کی وجہ سے بھی بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے دیگر ایشیائی مارکیٹیں بہتری کی جانب گامزن ہیں تاہم کراچی اسٹاک مارکیٹ ابھی تک اپنی پہلی والی سطح پر نہیں پہنچ سکی۔

پاکستان نے پشاور اسکول حملے کے بعد سے سلامتی کے شعبے میں نیشنل ایکشن پلان کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس کے تحت نہ صرف دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں بلکہ ملک سے آئندہ کرپشن کا خاتمہ کر دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، جن کا تعلق سیاسی جماعت پیپلز پارٹی سے ہے، کو اس وقت کرپشن کے چوبیس الزامات کا سامنا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے لیکن انہوں نے بارہ مقدمات میں اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی تھی۔

اسی طرح پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر پٹرولیم عاصم حسین بھی کرپشن کے الزامات کے تحت اس وقت پاکستان رینجرز کی تحویل میں ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن ادارے سرکاری کمپنی سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کے متعدد حکام سے بھی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی جاری ہے اور جلد ہی اس کا دائرہء کار صوبہ پنجاب تک بھی بڑھا دیا جائے گا۔