1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایم کیو ایم کے مبینہ ملزمان کی فہرست جاری

ایم کیو ایم یہ مطالبہ کرتی آئی ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایم کیو ایم کا کوئی بھی کارکن مطلوب ہے، تو انہیں بتایا جائے اور وہ خود اس کی حوالگی کو یقینی بنائیں گے۔

کراچی کی مقبول ترین جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو ایک اور امتحان کا سامنا ہے۔ اب تک تو قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم میں مبینہ طور پر ملوث کارکنوں اور رہنماوں کو گرفتار کر رہے تھے لیکن اب رینجرز نے ایم کیو ایم کو خط لکھ کر پولیس اہلکاروں کی ٹارگیٹ کِلنگ میں ملوث کارکنوں کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

DW.COM

اس تناظر میں اب رینجرز نے ایم کیو ایم سے پولیس اہلکاروں کی ٹارگیٹ کِلنگ میں ملوث 187 کارکنوں کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ رینجرز نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس کے ساتھ ایک فہرست موجود ہے اور اس میں فہرست میں مطلوب کارکنوں کے نام، ان کے متعلقہ سیکٹر آفسز اور مقدمہ کی تفصیلات درج ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے جلا وطن رہنما الطاف حسین نے اپنی تقریروں میں ماضی میں اپنی جماعت کو مشکل سے دوچار کیا ہے اور الطاف حسین کی جانب کیے جانے والے ایک حالیہ خطاب نے ایم کیو ایم کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ رابطہ کیمٹی سمیت تمام سرگردہ رہنما مقدمات میں نامزد ہیں، جن میں سے کئی کو ضمانت قبل از گرفتاری کرانا پڑی اور کئی زیر زمین چلے گئے ہیں۔ ملک کی کوئی دوسری جماعت اخلاقی طور پر بھی ایم کیو ایم کا ساتھ دینے کو تیار نہیں کیونکہ سب کو ہی ایم کیو ایم سے شکایات ہیں۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں ایم کیو ایم خود کو پہلی بار سیاسی طور پر تنہا محسوس رہی ہے۔ سینئر صحافی مظہر عباس کہتے ہیں، ’’ایم کیو ایم کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ 90 کی سیاست کو تبدیل کرنا ہوگا۔ پہلی مرتبہ رینجرز نے مطلوب افراد کی حوالگی کا مطالبہ کر کے ایم کیو ایم کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘‘ تاہم فہرست میں جن مقتولین کے نام دیے گئے ہیں وہ 1985 سے 1990 تک کے دوران مارے گئے ہیں اور جن افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے ان میں سے کئی یا تو پہلے ہی مارے جا چکے ہیں یا پھر گرفتار ہوچکے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم تو کراچی کو امن کے لیے فوج کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرتی تھی اور آپریشن کا مطالبہ بھی ایم کیو ایم کا ہی تھا لیکن عجیب بات ہے کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت سب کے خلاف بلاتفریق کارروائی کر رہی ہے اور اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں لیکن سوائے ایم کیو ایم کے کسی کو آپریشن کی جانبداری نظر نہیں آتی۔

رینجرز کی جانب سے ارسال کیے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ 90 کے آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کے بعد میں ٹارگیٹ کرکے قتل کر دیا گیا اور جس میں ایم کیو ایم کے مسلح گروہ کے مذکورہ 187 افراد ملوث ہیں۔ رینجرز افسر نے خط میں لکھا ہے کہ برائے کرم پولیس اہلکاروں کے قتل کی تفتیشن کے لیے ان مشتبہ افراد کو رینجرز کے حوالے کیا جائے۔

Pakistan Rangers Schreiben EINSCHRÄNKUNG

رینجرز نے ایم کیو ایم سے پولیس اہلکاروں کی ٹارگیٹ کِلنگ میں ملوث 187 کارکنوں کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے

ڈاکٹر فاروق ستار نے خط کے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو خط ان کے گھر پر موصول ہوا اور نہ ہی ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر ان کے نام ایسا ہوئی خط آیا ہے۔ البتہ میڈیا میں خط کی گونج ضرور سنی ہے۔

چند ماہ قبل ہی عوام مسلم لیگ سے ایم کیو ایم میں شمولیت کے بعد لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ مقرر ہونے والے محفوظ یار خان ایڈویکٹ نے فہرست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد میں سے کوئی بھی ایم کیو ایم کا کارکن نہیں ہے۔ انہوں نے مطلوبہ افراد کا کرمنل ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔

مبصرین ایم کیو ایم کے طرز عمل پر شاکی بھی ہیں اور اس میں تبدیلی کے خواہاں بھی۔ معروف کالم نویس مقتدٰی منظور کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا طرز عمل جہموریت کے لیے مفید نہیں، ’’ الطاف حسین کا حالیہ بیان غیر ضروری ہے اور اس سے جہموری قوتیں غیر مستحکم ہوں گی۔ جہاں تک رہی بات مطلوبہ افراد کی حوالگی کے لیے خط، تو رینجرز نے ضابطہ کی کارروائی پوری کی ہے لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کارکنوں کی حوالگی نہیں کرسکتی کیونکہ اس کا واضح مطلب دہشت گردی کا الزام تسلیم کرنا ہوگا۔‘‘

سپریم کورٹ نے آج بروز بدھ فوجی عدالتوں کے حق میں فیصلہ بھی سنا دیا ہے، جس کے بعد بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ معاملہ بھی کبھی نہ کبھی ایم کیو ایم تک آئے گا۔