1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایم کیو ایم کا رینجرز پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام

پاکستانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ایک ایسی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق کراچی شہر میں آپریشن کے دوران نیم فوجی رینجرز کے دستے مبینہ طور پر اس کے چھیالیس ارکان کو ماورائے عدالت انداز میں ہلاک کر چکے ہیں۔

default

کراچی کے شہریوں کی بڑی تعداد کے مطابق آپریشن کے آغاز کے بعد سے شہر میں منظم جرائم واضح طور پر کم ہو چکے ہیں

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات چوبیس ستمبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس فہرست میں متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ان 46 ارکان کو رینجرز نے دانستہ طور پر ہلاک کیا۔

DW.COM

یہ پہلا موقع ہے کہ ایم کیو ایم نے کراچی میں دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن میں مصروف رینجرز پر اپنے کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا باقاعدہ الزام عائد کیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے یہ فہرست پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کر دی ہے، جو دراصل پاکستانی سربراہ حکومت پر اس حوالے سے دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے کہ وہ رینجرز اور اس ملکی فوج کو، جس کو رینجرز جواب دہ ہیں، ان کی کارروائیوں کے لیے زیادہ جواب دہ بنائیں۔

جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کی آبادی بیس ملین کے قریب ہے، جہاں رینجرز جرائم کے خلاف اپنا کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس فہرست میں ایم کیو ایم نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پاکستانی رینجرز اور فوج اس پارٹی کے ارکان کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ اس فہرست میں، جو اس نیوز ایجنسی کے نامہ نگاروں نے خود دیکھی ہے، درجنوں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کو دستاویزی طور پر ریکارڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کراچی میں مسلسل بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام کے لیے رینجرز نے اپنے آپریشن کا آغاز 2013ء کے اواخر میں کیا تھا اور اس بارے میں ایم کیو ایم کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کی فہرست پر ردعمل کے لیے روئٹرز نے جب رینجرز اور پاکستانی فوج سے رابطے کی کوشش کی تو ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے ملنے والی دیگر رپورٹوں کے مطابق پولیس کے ترجمان قمر زیب نے اس حوالے سے استفسار پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے بس اتنا ہی کہا کہ ان مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے چند واقعات سے متعلق مقدمات کی ملکی سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ ایک ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے چھان بین کی جا رہی ہے۔

Pakistan Aamir Khan Chef der Oppositionspartei MQM vor Gericht

اس آپریشن کے دوران رینجرز نے کراچی میں ایم کیو ایم کے پارٹی ہیڈ کوارٹرز پر بھی چھاپہ مارا تھا، جہاں سے متعدد مبینہ مجرموں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا

اسی بارے میں روئٹرز نے جب پاکستانی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے رابطہ کیا تو انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ کراچی میں آپریشن کے ذریعے ایم کیو ایم کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا، ’’کراچی میں جاری آپریشن کا ہدف صرف جرائم پیشہ عناصر ہیں، نہ کہ کوئی مخصوص سیاسی جماعت۔‘‘

پرویز رشید نے مزید کہا، ’’وزیر اعظم ایم کیو ایم کے تحفظات کے ازالے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ ایم کیو ایم کے تحفظات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کا ازالہ بھی سیاسی طور پر کیا جائے گا۔‘‘ وزیر اعظم نواز شریف نے یہ کمیٹی گزشتہ مہینے اگست میں قائم کی تھی لیکن ابھی تک اس کمیٹی کے کسی اجلاس کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کے ان الزامات کے باوجود کراچی کی آبادی میں رینجرز کے مسلح آپریشن کے لیے کافی زیادہ تائید و حمایت پائی جاتی ہے۔ کراچی میں، جسے پاکستانی معیشت کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے، رینجرز کے اسی کریک ڈاؤن اور اس سے اب تک حاصل ہونے والے نتائج کی اسی مہینے ملکی وزیر اعظم نواز شریف نے بھی تعریف کی تھی۔