ایم کیو ایم کا بھارتی ہائی کمشنر کو مدد کے لیے خط | حالات حاضرہ | DW | 06.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایم کیو ایم کا بھارتی ہائی کمشنر کو مدد کے لیے خط

پاکستانی سیاسی جماعت ایم کیو ایم نے اپنے چار لاپتہ کارکنان کی گرفتاری کے حوالے سے بھارتی ہائی کمشنر کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کارکنوں کی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے چار کارکن 29 جولائی کو دیگر آٹھ افراد کے ساتھ حیدرآباد جاتے ہوئے لاپتہ ہوئے تھے۔ پاکستان میں متعین بھارتی ہائی کمشنر، ٹی سی اے راگھوان کو لکھے گئے خط پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں عارف خان ایڈووکیٹ، عبدالقادر خانزادہ اور شبیر قائم خانی کے دستخط ہیں۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان ولید کمال، شایان رحمان، سعد ہاشمی اور اسد رضا تاحال پاکستانی ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں اور ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

لیکن خط سے متعلق خبر آنے کے بعد سے ایم کیو ایم خود تصادات کا شکار ہے۔ سینئر رہنما فاروق ستار نے دعوٰی کیا ہے کہ اس حوالے سے کسی کو خط نہیں لکھا اور یہ کسی رہنما کی تیکنیکی غلط ہوسکتی ہے ایسا دانستہ طور پر نہیں کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم، پے در پے غلطیاں کر کے خود اپنے لیے مشکلات میں اضافہ کررہی ہے۔

قومی اسمبلی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ خط غلطی سے ہندوستان کے ہائی کمشنر کے ایڈریس پر ای میل ہوگیا ہوگا یا کسی رہنما نے ای میل کی فہرست میں موجود ایڈریس پر غلطی سے خط ارسال کر دیا ہوگا۔

مگر ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما وسیم اختر کی رائے ڈاکٹر فاروق ستار سے بالکل مختلف ہے۔ وسیم اختر کا کہنا ہے کہ خط کوئی خفیہ دستاویز نہیں ہے۔ کارکنوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کئی ممالک کو خط لکھے گئے ہیں۔ اس سے قبل ایم کیو ایم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی خط ارسال کیا تھا۔

خط غلطی سے ہندوستان کے ہائی کمشنر کے ایڈریس پر ای میل ہوگیا ہوگا، فاروق ستار

خط غلطی سے ہندوستان کے ہائی کمشنر کے ایڈریس پر ای میل ہوگیا ہوگا، فاروق ستار

تجزیہ کار وسیم اختر کی رائے سے متفق دکھائی نہیں دیے۔ جن کے مطابق ایم کیو ایم پر ہمیشہ سے بھارتی خفیہ ادارے کی مدد کا الزام ہے اور ایم کیو ایم اس الزام سے کبھی پیچھا نہیں چھڑا سکی۔

پاکستان کے ایک سینیئر صحافی قیصر محمود کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے متعلق عام تاثر یہی ہے کہ مشکل حالات میں یہ جماعت زیادہ منظم انداز میں ابھر کر سامنے آتی ہے کیونکہ اردو بولنے والے افراد کی اکثریت کی رائے ایم کیو ایم کے حق میں ہوجاتی ہے: ’’لیکن اس مرتبہ مشکلات پہلے سے زیادہ ہیں۔ بھارت سے نا چاھتے ہوئے بھی قائم ہوجانے والے تعلق کا ادراک ایم کیو ایم کو بھی ہے جبھی لندن میں محمد انور کو پہلی بار پریس کانفرنس بلا کر اپنے پاکستانی ہونے کی ثبوتوں کے ساتھ وضاحت کرنا پڑی ہے۔‘‘