1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایم کیو ایم قومی اسمبلی، سینیٹ اور سندھ اسمبلی سے مستعفی

پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے کراچی میں جاری رینجرز کے آپریشن کے خلاف احتجاجاً قومی اسمبلی ،سینٹ اور سندھ اسمبلی سے استعفے دے دیے ہیں۔

Farooq Sattar

ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما فاروق ستار

ایم کیو ایم کے اراکین نے بدھ کے روز قومی اور سندھ اسمبلی کے سپیکروں اور چیئرمین سینٹ کو اپنے استعفے جمع کرائے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایم کیو ایم کے چوبیس میں سے تیئیس اراکین کے استعفوں کی تصدیق کی۔ ایم کیو ایم کی ایک خاتون رکن ثمن سلطانہ جعفری بیرون ملک ہونے کی وجہ سے اس عمل میں شریک نہیں ہو سکیں۔

ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے اپنے استعفے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو پیش کیے ہیں جبکہ اس سے قبل سندھ اسمبلی میں متحدہ کے اکیاون اراکین کے استعفے سپیکر صوبائی اسمبلی آغا سراج درانی کو پیش کیے۔

کراچی میں متحدہ کے اکتالیس اراکینِ صوبائی اسمبلی نے پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن کی قیادت میں اکیاون اراکین کی جانب سے استعفے سپیکر کے دفتر میں جمع کرائے۔

ایم کیو ایم کے دس ارکانِ صوبائی اسمبلی ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے استعفے پیش کرتے وقت موجود نہیں تھے۔ ایم کیو ایم کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اور سینیٹ کے اراکین کی کل تعداد تراسی ہے۔

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے دو ارکان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ ہیں اور انہیں چند روز قبل ایم کیو ایم کے مبینہ فوج اور پاکستان مخالف بیانات کی وجہ سے کابینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ تاہم ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے ابھی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے مستعفی ہونے کے بارے میں نہیں سوچا۔

قومی اسمبلی میں استعفے جمع کرانے کے بعد فاروق ستار نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ اُن کی جماعت کے چالیس سے زائد کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، سینکڑوں کارکن لاپتہ ہیں لیکن ان کی آواز کہیں بھی نہیں سنی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران دو سو کارکنان کو رینجرز اور پولیس نے گرفتار کیا ہے لیکن آج تک اُنہیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے لیے ایم کیو ایم نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ انہوں نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار سے ملنا چاہا لیکن انہیں وقت نہیں دیا گیا۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی میں ان کی جماعت کو دیوار کے ساتھ لگا کر تحریک انصاف اور مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے لیے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فاروق ستار نے کہا:’’کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد وزیر اعظم نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد ماورائے عدالت اقدامات اور اس آپریشن کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنا تھا لیکن آج تک اس کمیٹی کی تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی۔‘‘

Pakistan Parteien Altaf Hussain von der MQM Partei

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے مبینہ فوج اور پاکستان مخالف بیانات کی وجہ سے یہ جماعت آج کل مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بن رہی ہے

ایک سوال کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کرے گی۔

انتخابی طریقہٴ کار کے مطابق ایم کیو ایم کے ارکان کے استعفے منظوری کے بعد الیکشن کمشن کو بھجوائے جائیں گے جو اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکشن جاری کرے گا اور پھر ساٹھ دن کے اندر خالی ہونے والی ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کرائے جائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم کے استعفے کراچی میں جاری آپریشن کو سیاسی قرار دلوانے کی ایک کوشش ہیں۔ تجزیہ کار فواد چوہدری کا کہنا ہے:’’یہ سب کو پتہ ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کے کہنے پر آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ یہ آپریشن جنرل راحیل شریف اور ان کی ٹیم کر رہی ہے اور اس کا مقصد کراچی سے، جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے، دہشت گردوں کو ملنے والے مالی وسائل کی رسد ختم کرنا ہے۔ تو میرے خیال میں ان استعفوں کا کراچی آپریشن رکوانے کے لیے سیاسی حکومت پر زیا دہ اثر انداز نہیں ہو سکتا۔‘‘

خیال رہے کہ کراچی میں آپریشن کرنے والے رینجرز کے سربراہ میجر جنرل بلال اکبر کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن بلاامتیاز تمام جرائم پیشہ افراد کے خلاف کیا جا رہا ہے۔