1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایم کیو ایم قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے، ڈاکٹر عامر لیاقت

'پاکستان مخالف‘ تقریر پر معافی مانگنے کے باوجود ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو تحویل میں لیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر ڈاکٹرعامر لیاقت نے الزام عائد کیا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے ایک بیان میں اپنے رہنماؤں کے تحویل میں لیے جانے کی مذمت کی ہے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’ایم کیو ایم ایک محب وطن اور جمہوری جماعت ہے، ایم کیو ایم کے ایم این اے آصف حسین اور ایم پی اے شیراز وحید کو جھوٹے مقدمات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، کراچی کے عوام سمجھ رہے ہیں کہ انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔‘‘

پاکستانی نیوز چینل اے آر وائی کی ویب سائٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے کئی دفاتر کو بند اور کچھ کو مسمار بھی کر دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ پر دی گئی معلومات میں لکھا گیا ہے، ’پارکس اور سرکاری پلاٹس پر قائم ایم کیو ایم کے غیر قانونی دفاتر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، کراچی میں ایک سو چھیانوے دفاتر سیل اور متعدد مسمار کر دیے گئے ہیں‘۔

پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق کراچی شہر کے ایس ایس پی راؤ انور کا کہنا ہے، ’ایم کیو ایم کے دفاتر کو مسمار کرنے کا حکم سندھ کے چیف منسٹر مراد علی شاہ کی جانب سے دیا گیا ہے کیوں کہ یہ دفاتر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے‘۔

ادھر نامور ٹی وی اینکر اور ایم کیو ایم کے ایک سابق رکن ڈاکٹرعامر لیاقت حسین نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے اور اگر وہ قتل کر دیے گئے تو ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ گزشتہ شب جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ جب سے انہوں نے ’پاکستان مردہ باد‘ نعروں کی مذمت کی ہے اور ایم کیو ایم چھوڑنے کا اعلان کیا ہے، انہیں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ 22 اگست کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی ’پاکستان مخالف‘ تقریر اور اے آر وائی پر مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے کارکنان کے حملے کے بعد ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو رینجرز نے ایک رات اپنی تحویل میں رکھا تھا۔

لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما ندیم نصرت نے ڈاکٹرعامر لیاقت کے ان الزامات کی مکمل طور پر تردید کر دی ہے۔

22 اگست کو اے آر وائی نیوز پر حملے کے بعد رینجرز نے کراچی میں ایم کیو ایم کے دفاتر کو بند کر دیا تھا اور تفتیش کی خاطر ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں کو عارضی طور پر تحویل میں بھی لیا تھا۔ رواں ہفتے منگل کے دن ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے لندن دفتر سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ فاروق ستار کی اس پریس کانفرنس کے بعد پاکستانی میڈیا میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ اب الطاف حسین کی جگہ فاروق ستار نے ایم کیو ایم کی قیادت سنبھال لی ہے۔ تاہم ایم کیو ایم کے سینیئر رہنماؤں نے اپنے بیانات میں اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد بدستور الطاف حسین ہی ہیں۔

DW.COM