1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ایم ایچ سترہ‘ کے حادثے کو دو برس بیت گئے

یوکرائن میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں ملائیشیائی ایئر لائنز کی پرواز MH17 کو تباہ ہوئے دو برس کا عرصہ مکمل ہو گیا ہے۔ اس موقع پر مقامی دیہات کے درجنوں باسیوں نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف ہی نے بتایا ہے کہ مشرقی یوکرائن کے علاقے Petropavlivka میں اس طیارہ حادثے کی یاد میں درجنوں افراد نے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔

DW.COM

سترہ جولائی سن 2014 کو تباہ ہونے والے اس ملائیشیائی طیارے کا کچھ ملبہ اس علاقے سے بھی ملا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ مقامی افراد نے دو برس قبل اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں آج شمعیں روشن کیں اور پھول نچھاور کیے۔

ملائیشیائی ایئر لائنز کی پرواز MH17 ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ وہ مشرقی یوکرائن میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ اس حادثے کے نتیجے میں عملے سمیت کل 298 افراد مارے گئے تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی تھے۔ اے ایف پی نے بتایا ہے کہ Petropavlivka میں کچھ نوجوانوں نے ہلاک ہونے والے بچوں کی یاد میں کاغذ کے جہاز بھی اڑائے۔

یہ امر اہم ہے کہ یہ علاقہ اب بھی روس نواز باغیوں کے قبضے میں ہے، جو مغرب نواز یوکرائنی فورسز کے ساتھ عسکری کارروائی کرتے رہتے ہیں۔

اس دیہات کی کونسل کی سربراہ نتالیا وولوشینا نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس حادثے کے دو برس مکمل ہونے کے موقع پر ہمیں اُن افراد کے ٹیلی فون موصول ہوئے، جن کے عزیز اس حادثے میں مارے گئے تھے۔ انہوں نے ہمیں جائے حادثہ سے ایسی اشیاء ڈھونڈنے کو کہا ہے، جو ان کے لیے علامتی طور پر یادگار ہو سکتی ہیں، جیسا کے بچوں کے کھلونے وغیرہ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس دیہات کے مقامی افراد قریبی جنگلات سے اس جہاز کا ملبہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر مسافروں کا تعلق ہالینڈ سے تھا۔ ہلاک شدگان کے بہت سے رشتہ دار ملائیشیائی ایئر لائنز اور ایسے دیگر افراد اور باغیوں کے خلاف مقدمہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جنہیں وہ اس حادثے کے لیے قصوروار قرار دیتے ہیں۔

اکتوبر میں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس اس مسافر بردار بوئنگ 777 کو روسی ساختہ ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جو باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے فائر کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ میں البتہ یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ کارروائی کس نے سرانجام دی تھی۔ اس جہاز کو مار گرانے کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے ایک اور تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے، جو رواں برس موسم گرما کے دوران جاری کر دی جائے گی۔

یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے اتوار کے دن جاری کردہ اپنے ایک بیان میں دہرایا کہ ’اس سانحے کے قصورواروں کو سزا ضرور دی جائے گی‘۔ اس بیان کے مطابق ان کی حکومت اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

مشرقی یوکرائن میں سرگرم روس نواز باغی ایسے کو مسترد کرتے ہیں کہ اس جہاز کی تباہی میں ان کا کوئی کردار ہے۔ ان باغیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یوکرائنی سکیورٹی فورسز کی طرف سے سرانجام دی گئی تھی۔ اس ملائیشیائی طیارے کی تباہی کے دو برس مکمل ہونے پر یوکرائن سمیت دیگر ممالک میں بھی یادگاری تقریبات منعقد کی گئیں۔