1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ایمی وائن ہاؤس کی موت: ’وجہ سکون آور دوا نہیں‘

امسال جولائی میں انتقال کر جانے والی نوجوان برطانوی گلوکارہ ایمی وائن ہاؤس کی والدہ جینِس وائن ہاؤس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی کی موت کی وجہ سکون آور دوا نہیں ہے۔

default

ایمی وائن ہاؤس میڈرڈ کے نواح میں ایک کنسرٹ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فائل فوٹو

جینِس وائن ہاؤس کے مطابق ایمی Librium نامی جو دوائی استعمال کرتی تھیں، وہ ذہن کو سکون دینے والی ایک دوائی تھی جو ایمی کو ان کے معالج نے اس وجہ سے تجویز کی تھی کہ نشے کی عادت سے چھٹکارہ پانے میں ایمی کی مدد کی جا سکے اور نفسیاتی پریشانیوں سے بچا جا سکے۔

ایمی کی والدہ جینِس وائن ہاؤس نے یہ بات اپنے اس تازہ انٹرویو میں کہی ہے، جو آج اتوار کے روز جرمن روزنامے ’بلڈ ام زونٹاگ‘ Bild am Sonntag میں شائع ہوا۔ اپنے اس انٹرویو میں ایمی کی والدہ نے، جو خود بھی ایک سند یافتہ کیمسٹ ہیں، کہا کہ جو دوائی ایمی استعمال کرتی تھیں، وہ ایک سکون بخش دوا تھی۔ ’’جو دوائی آپ کو سکون دیتی ہے، وہ آپ کی جان نہیں لے سکتی۔‘‘

جرمنی کے کثیر الاشاعت اخبار بلڈ ام زونٹاگ میں شائع ہونے والے جینِس وائن ہاؤس کے انٹرویو کے بعد فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی نے برلن سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ایمی وائن ہاؤس کی موت کے حوالے سے جو بات ان کی والدہ نے اب کہی ہے، وہ ایمی کے والد اور جینِس کے سابقہ شوہر مِچ وائن ہاؤس کے اب تک کے بیانات کی نفی کرتی ہے۔

Flash-Galerie Die Töchter der Rockstars

ایمی وائن ہاؤس اس سال 23 جولائی کو لندن میں اپنے گھر پر مردہ پائی گئی تھیں اور 27 برس کی عمر میں انتقال سے پہلے ایک گلوکارہ کے طور پر ایک طرف اگر وہ پانچ مرتبہ گریمی ایوارڈ بھی جیت چکی تھیں تو دوسری طرف ایک بہت مقبول فنکارہ کے طور پر ایمی کو کثرت سے شراب نوشی اور منشیات کے استعمال جیسی عادتوں کا سامنا بھی رہا تھا۔

اپنی بیٹی کے بارے میں جینِس وائن ہاؤس نے اس انٹرویو کے آخر میں کہا، ’’ایمی نے وہی کیا، جو وہ کرنا چاہتی تھی۔ اس نے کوئی مدد قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شامل شمس

DW.COM