1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ایمی وائن ہاؤس کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

معروف برطانوی گلوکارہ ایمی وائن ہاؤس کی ان کے انتقال کے تین روز بعد منگل کے روز لندن میں یہودی مذہبی عقائد کے مطابق ادا کی جانے والی آخری رسومات میں ان کے اہل خانہ، دوستوں اور کئی سو مداحوں نے شرکت کی۔

default

ستائیس سالہ ایمی وائن ہاؤس ہفتہ کی سہ پہر برطانوی دارالحکومت لندن کے شمالی حصے میں واقع اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ بہت باصلاحیت سمجھی جانے والی اور موسیقی کی دنیا کے کئی اعلیٰ اعزازات حاصل کرنے والی اس گلوکارہ کی شمالی مغربی لندن کے Edgwarebury قبرستان میں ادا کی جانے والی آخری رسومات میں کئی بڑے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئی۔

ایمی کے والد مِچ وائن ہاؤس نے اپنی بیٹی کے جنازے کے پاس کھڑے ہو کر اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’شب بخیر، میرے ننھے فرشتے، اچھی طرح سونا۔ ممی اور ڈیڈی تمھیں ہمیشہ بہت زیادہ پیار کرتے رہیں گے۔‘‘

اس موقع پر ایمی کے والد نے اپنی سابقہ بیوی اور ایمی کی والدہ جینِس کے ساتھ مل کر کہا کہ وہ اپنی چہیتی بیٹی کی موت پر ابھی تک بہت بڑے دھچکے کی حالت میں ہیں، جو اپنی نسل کے بہترین برطانوی گلوکاروں میں سے ایک تھی مگر جسے شراب نوشی اور منشیات کے استعمال کی عادت کے خلاف بھی لڑنا پڑا تھا۔

Amy Winehouse Auftritt FLASH-Galerie

ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کی موت کی وجہ کیا بنی

ہفتہ کے روز انتقال کے بعد ایمی وائن ہاؤس کی لاش کے پوسٹ مارٹم کی جو رپورٹ پیر کو سامنے آئی تھی، اس میں یہ تعین نہیں ہو سکا تھا کہ بہت کم عمری میں ہی بڑی شہرت حاصل کر لینے والی اس فنکارہ کی موت کی اصل وجہ کیا تھی۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ ایمی کی موت کو پولیس کی طرف سے شبے کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا رہا۔

لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس کے مطابق ایمی وائن ہاؤس کی موت کی اصل وجوہات کے تعین کے لیے طبی ماہرین کی طرف سے ابھی مزید کئی ٹیسٹ کیے جانا باقی ہیں اور توقع ہے کہ یہ عمل اگلے دو سے چار ہفتوں کے درمیانی عرصے میں پورا ہو جائے گا۔

ایمی کی آخری رسومات کے موقع پر ہونے والی مذہبی سروس میں انگریزی کے علاوہ عبرانی زبان میں بھی دعائیں مانگی گئیں، جن کے اختتام پر وہاں موجود تمام سوگواران نے مل کر ایمی کا پسندیدہ Carole King کا وہ گیت گایا، جس کا ٹائٹل ہے So Far Away۔

ان آخری رسومات کے بعد اہل خانہ اور بہت قریبی دوستوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے گروپ کی طرف سے ایمی وائن ہاؤس کی میت قریب ہی واقع مردوں کی تدفین کا اہتمام کر نے والے ایک ادارے میں پہنچا دی گئی، جہاں اسے نذر آتش کیا جانا تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس