1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایمن الظواہری القاعدہ کے نئے سربراہ مقرر

اسلام پسندوں کی ایک ویب سائٹ کے مطابق پیدائشی طور پر مصر سے تعلق رکھنے والے ایمن الظواہری القاعدہ کے نئے سربراہ بن گئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نائن الیون حملوں کے پیچھے عملی طور پر انہی کا دماغ کارفرما تھا۔

default

اسلام پسندوں کی ویب سائٹ ’انصارالمجاہدین‘ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’القاعدہ کی جنرل کمانڈ اعلان کرتی ہے کہ شیخ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے تنظیم کے نئے امیر کی حیثیت سے فرائض سنبھال لیے ہیں۔‘‘ القاعدہ کی جنرل کمانڈ کے مطابق یہ فیصلہ باہمی صلاح مشورے کے بعد کیا گیا۔ ایمن الظواہری کو 45 روز پہلے پاکستان میں ہلاک کر دیے جانے والے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا دست راست تصور کیا جاتا تھا۔ ابھی تک کسی کو یہ علم نہیں کہ الظواہری کہاں چھپے ہوئے ہیں۔

Ayman al-Zawahri Osama bin Laden NO FLASH

اسامہ بن لادن کی زندگی میں ہی الظواہری کو ان کا نائب مقرر کر دیا گیا تھا

واشنگٹن حکومت کے مطابق وہ ایک لمبے عرصے تک پاک افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقوں میں موجود رہے۔ امریکہ کی طرف سے ان کے سر کی قیمت 25 ملین ڈالر مقرر کی جا چکی ہے۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی جگہ القاعدہ کا سربراہ بننے والا کوئی بھی شخص امریکہ کا دشمن نمبر ایک ہو گا۔ دو مئی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایمن الظواہری نے آٹھ جون کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ القاعدہ تنظیم امریکہ کے خلاف جنگ جاری رکھے گی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ایمن الظواہری کی اسامہ بن لادن سے پہلی ملاقات افغانستان میں 80 کی دہائی میں اس وقت ہوئی تھی، جب سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جنگ لڑی جا رہی تھی۔ ایک سابق امریکی انٹیلی جنس آفیسر رابرٹ آیرز کا کہنا ہے کہ الظواہری میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو دوبارہ متحرک کر سکیں۔ رابرٹ آیرز کے مطابق الظواہری کی القاعدہ کے سربراہ کے طور پر تعیناتی سے امریکہ کا ہدف مزید واضح ہو گیا ہے۔

Aiman al-Sawahiri

الظواہری کے سر کی قیمت 25 ملین ڈالر مقرر کی جا چکی ہے

ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کے سکیورٹی مشیر سجن گوہل کے مطابق بھی الظواہری مختلف عرب جہادی دھڑوں کو متحد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لیکن کئی صحافی القاعدہ جنرل کمانڈ کے اس فیصلے کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ لندن میں مقیم اور 1996 میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے والے عرب صحافی عبدالباری عطوان کا کہنا ہے کہ الظواہری القاعدہ کے ’آپریشنل دماغ‘ کے طور پر کام کرتے تھے۔ عسکریت پسند حلقوں میں ان کی عزت اس وجہ سے بھی کی جاتی ہے کہ اسامہ بن لادن کی زندگی میں ہی الظواہری کو ان کا نائب مقرر کر دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ الظواہری ہی تھے ، جنہوں نے مصر میں شروع ہونے والی ایک چھوٹی سی تحریک کو بین الاقوامی نیٹ ورک میں تبدیل کر دیا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM