1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پچاس سال

آج اٹھائیس مئی کو حقوقِ انسانی کی علمبردار بین الاقوامی شہرت کی حامل غیر سرکاری تنظیم کے قیام کے پچاس سال مکمل ہو گئے ہیں۔ جرمن صدر نے تنظیم کو مقاصد کے حصول کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کی پیشکش کی ہے۔

default

عالمی سطح پر اس تنظیم کا لوگو ہی معنی کا ذخیرہ خیال کیا جاتا ہے۔ لوگو میں ظاہر ایک شمع خاردار تاروں میں جکڑی ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں سے ضمیر کے قیدیوں کے حق میں بلند کرنے والی تنظیم نے اپنی گولڈن جوبلی کے موقع پر پچاس شمعیں روشن کیں۔

اٹھائیس مئی سن 1961 کے روز برطانوی لیبر لاز کے قانون دان پیٹر بینن سن نے پرتگال میں اس وقت کے حکمران آمر انتونیو ڈی اولیویرا سالازار کے دور میں دو گرفتار طلباء کی رہائی کے لیے جو آواز بلند کی تھی، وہی اس تنظیم کے اساس کا باعث بنی تھی۔

BdT Deutschland Berlin Demonstration für Menschenrechte in China

جرمنی میں ایمنسٹی کے پرامن احتجاج کی تصویر: فائل فوٹو

بعد کے سالوں کے دوران اس تنظیم نے انسانی حقوق کے خلاف کام کرنے والی استعماری قوتوں کے خلاف بھرپور انداز میں مہم جاری رکھی۔ اس تنظیم نے کئی ممالک میں عوامی رائے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تنظیم نے جابرانہ حکومتوں کے حامل ملکوں اور بقیہ ممالک میں مقید خواتین و حضرات پر روا رکھے جانے والے ٹارچر کے خلاف عالمی سطح پر انتہائی اہم کمپین جاری رکھی۔ اس مہم کے اعتراف میں سن 1977 کا امن کا نوبل انعام، ایمنسٹی انٹرنیشنل کو دیا گیا۔ اگلے برس یعنی سن 1978 میں ایمنسٹی کو انسانی حقوق کے لیے جاری سرگرمیوں کے اعتراف میں اقوام متحدہ پرائز برائے انسانی حقوق سے نوازا گیا۔

ماہرین نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا وجود دنیا بھر کی حکومتوں کے کانوں کے قریب بولنے والے مچھر کی آواز کی مانند ہے اور یہ آواز حکومتوں کے لیے فکر کا باعث رہتی ہے۔ اس تنظیم کی رپورٹس اور جائزوں کو عالمی سطح پر بہت وقعت حاصل ہونے کی وجہ سے ایک معتبر حوالہ خیال کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے تنظیم کی جانب سے سالانہ بنیادوں پر باقاعدگی سے رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا صدر مقام لندن میں قائم ہے۔

وفاقی جرمن صدر کرسٹیان وولف نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پاسداری کی جنگ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کو مل کر جدوجہد کرنے کی پیشکش کی ہے۔ حقوقِ انسانی کی علمبردار اس تنظیم کے قیام کی پچاس ویں سالگرہ پر برلن میں منعقدہ ایک تقریب میں جرمن صدر نے انسانی حقوق کے احترام کے لیے ایمنسٹی کی عالمگیر کوششوں کے لیے شکریہ ادا کیا۔ صرف جرمنی ہی میں ایک لاکھ 14 ہزار افراد اس تنظیم کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے 150 ملکوں میں تین ملین سے زائد رضاکار ہیں اور ان میں سے اکثریت کا تعلق شمالی امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے ہے۔ تنظیم کی کوشش ہے کہ اس کے رضاکاروں میں دیگر اقوام سے لوگ شامل کیے جا سکیں تاکہ اس کے تشخص کو گلوبل روپ مل سکے۔

حالیہ سالوں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انسانی حقوق کے علاوہ کچھ اور پہلوؤں پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹھی کے مطابق اب ان کا ادارہ غربت، نسلی و جنسی امتیاز کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق اور مرکزی دھارے سے خارج شدہ لوگوں کے حق میں بھی آواز بلند کر رہا ہے۔

عالمی سطح پر اب ایمنسٹی انٹرنیشنل کو انسانی حقوق کے علمبردار کئی اور اہم اداروں سے مسابقت کا سامنا ہے۔ ان میں ہیومین رائٹس واچ (Human Rights Watch) اور سیو دی چلڈرن (Save the Children) اہم ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس