1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ایلوس اور اس وقت کی قدامت پسند صحافت

امریکی موسیقی کے شہنشاہ کہلانے والے مشہور زمانہ ایلوس پریسلے کو اُس دور کے امریکی صحافتی حلقےکس نظر سے دیکھتے تھے اس بارے میں واشنگٹن میں ان دنوں ایک عوامی نمائش جاری ہے۔

default

50 ء کے عشرے میں جب ایلوس کا جادو ابھی اپنے عروج پر نہیں تھا تب بھی تمام ہی قدامت پسند امریکی صحافتی حلقے اس کے شوخ انداز گلوگاری کو امریکی روایات کے لئے خطرناک قرار دینے لگے تھے۔ موسیقی کی دنیا سے وابستہ شخصیات یہ بھی مانتی ہیں اس الزام تراشی نے ایک طرح سے امریکیوں کے ذہن میں ایلوس سے متعلق تجسس ابھارا جس نے آگے چل کر اس کی پزیرائی میں اہم کردار نبھایا۔

The ground breaking, hip-shaking news making sotry کے عنوان تلے جاری اس نمائش میں 50 اور 60 کے عشرے میں ایلوس پریسلے سے متعلق شائع شدہ خبروں کے تراشے بھی رکھے گئے ہیں۔ ایسی ہی ایک خبر میں ایلوس کی کمرکے جھٹکوں کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ وہ گانا گاتے ہوئے اپنی کمر کو اتنے جھٹکے دیتا ہے کہ اس کا گانا سنائی ہی نہیں دیتا۔ اس وقت کے ایک امریکی پولیس عہدیدار کے حوالے سے شائع شدہ خبر کا تراشہ ہے کہ ’’ اگر یہ گلوگار سڑک پر اپنی کمر کو اس طرح لچکائے تو اسے گرفتار کرلیا جائے گا‘‘۔

Flash-Galerie Elvis Presley

ایلوس جواں سالی میں 42 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے

یہ تمام چیزیں ایلوس کے مینیجر کرنل ٹوم پارکر نے جمع کی ہیں جن میں ایلوس کی چند یادگار تصاویر اور ملبوسات بھی شامل ہیں۔ امریکی فوج کی رضا کار خدمت کے دوران ایلوس کا یونیفارم، ایلوس کی وجہ سے مشہور Harley Davidson موٹرسائیکل، سونے سے بنی بیلٹس، چمڑے اور فر سے بنی جیکٹس بھی نمائش کا حصہ ہیں۔ قدامت پسند امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ایلوس کی ملاقات کی تصاویر بھی شائقین میں پسندیدہ قرار دی جارہی ہیں۔ ایلوس کو بطور خصوصی اہلکار برائے انسداد دہشت گردی ملنے والا بیج بھی رچرڈ نکس نے ہی دیا تھا۔ ایلوس سے متعلق یہ نمائش اگلے سال فروری تک جاری رہے گی۔ امریکہ کی سرزمین سے شہر کے عالمی افق پر ابھرنے والا یہ ستارہ اگر 42 برس میں انتقال نہ کرجاتا اور آج زندہ ہوتا تو اس کی عمر 75 برس ہوتی۔

رپورٹ . شادی خان سیف

 ادارت . عدنان اسحاق

DW.COM