1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ایلان کی موت کے بعد سے مزید 77 مہاجر بچے سمندر میں ڈوب گئے

یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کے سمندر میں ڈوب جانے کے واقعات ابھی تک اتنے زیادہ ہیں کہ تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی موت کے بعد گزشتہ دو ماہ میں اب تک مزید 77 بچے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

EINSCHRÄNKUNG IM TEXT BEACHTEN! Dieses Bild soll nur als Artikelbild zum Kommentar des Chefredakteurs gebucht werden Türkei Bodrum Aylan Kurdi

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے بتایا ہے کہ ایلان کردی کی ترکی کے ایک ساحل سے لاش دو ستمبر کو ملی تھی

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت IOM کے مطابق ایلان کردی کے اپنے خاندان اور کئی دیگر تارکین طن کے ساتھ ترکی سے یونان کی طرف خطرناک سمندری سفر کے دوران ڈوب کر ہلاک ہو جانے کے بعد اس کی لاش ترکی کے ایک ساحل سے ملی تھی۔ اس واقعے نے عالمی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ایلان کی ساحل پر موجود لاش کی تصویر کئی دنوں تک عالمی ذرائع ابلاغ میں سرخیوں کا موضوع بنی رہی تھی۔

آئی او ایم کے مطابق اس سال اب تک بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد سات لاکھ چوبیس ہزار ہو چکی ہے۔ ان میں سے پناہ کے متلاشی 80 فیصد تارکین وطن ترکی سے اپنا سفر شروع کرنے کے بعد بحیرہ ایجیئن پار کر کے یونان کے راستے یورپی یونین میں داخل ہوئے۔

اس دوران اس سال یکم جنوری سے لے کر جمعہ تیس اکتوبر تک کم از کم 3329 مہاجرین سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے تھے۔ اسی ہفتے ترکی سے آنے والے مہاجرین کی متعدد کشتیاں ڈوب جانے سے مزید درجنوں انسان سمندری لہروں کی نذر ہو گئے۔ ان میں ایک درجن سے زائد بچے بھی شامل تھے، جن میں سے آٹھ کی موت صرف جمعے کے روز ہوئی۔

Türkei Vater Aylan Kurdi

ایلان کردی کے والد نے اپنی بیوی اور بچوں کو واپس شام جا کر اپنے ہاتھوں سے دفنایا

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے بتایا ہے کہ ایلان کردی کی ترکی کے ایک ساحل سے لاش دو ستمبر کو ملی تھی۔ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ یہ شامی بچہ ترکی سے یونان کی طرف سفر پر تھا لیکن یونانی ساحل تک صرف اس کا والد ہی پہنچ پایا تھا۔

آئی او ایم نے کہا ہے کہ ایک تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ایلان کردی کی موت کے بعد سے قریب دو ماہ کے عرصے میں ایسے ہی مزید کم از کم 77 دیگر مہاجر بچے بھی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

DW.COM