1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایغور انتہاپسندوں کی بڑھتی جہادی سرگرمیاں اور چینی سفارتکاری

چین عالمی سطح پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ اُسے داخلی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ بیجنگ ایغور انتہاپسندوں کو مُورد الزام ٹھہراتا ہے۔ چین کے مطابق یہ شدت پسند اب چین سے باہر بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

default

سنکیانگ میں چینی ٹینک ایک شہر میں کھڑے ہیں

چین کا اصرار ہے کہ مشرقی ترکستان کے دہشت گرد کی قیادت ای ٹی آئی ایم (ETIM) کرتی ہے اور اِس نے سنکیانگ اور دیگر کئی چینی علاقوں کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی دہشت گردانہ وارداتیں کی ہیں۔ بنکاک کے ہندو مندر پر بم حملے میں بھی ایغور ہی ملوث بتائے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین سنکیانگ کے انتہا پسندوں کو قابو کرنے کے لیے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعاون اور سفارتی رابطہ کاری بڑھا رہا ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شام اور افغانستان کی حکومتوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اہم قرار دی گئی ہیں۔

چین کی ریاستی سکیورٹی کی وزارت کے زیر انتظام بین الاقوامی امور کے تھنک ٹینک کے انسدادِ دہشت گردی شعبے کے ڈائریکٹر لی وائی کا کہنا ہے کہ شام اِس وقت عالمی جہاد کا محور بن گیا ہے۔ سنکیانگ کے انتہا پسند جنگجو شام میں القاعدہ کے حامی گروپ النصرہ فرنٹ کے ساتھ ساتھ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی صفوں میں بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے باوجود بیجنگ حکومت اپنی پیپلز لبریشن آرمی کے دستے شام اور افغانستان روانہ نہیں کرے گی۔

سنکیانگ کے مہاجرت کرنے والے ایغور مسلمانوں کی بین الاقوامی تنظیم کے ترجمان دلشاد رشید کا کہنا ہے کہ ساری ذمہ داری ایغور باشندوں پر ڈالنے سے قبل چین کو اپنی داخلی پالیسیوں پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے کہ وہ کن کن طریقوں سے ایغور نسل، کلچر، زبان اور اُن کے مذہب کو تباہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دلشاد رشید کے مطابق کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں بارود سے بھرے ٹرک سے چینی سفارتی کمپاؤنڈ پر حملے نے بیجنگ حکومت کو ایغور آبادی کے خلاف الزام تراشی کے نئے سلسلے کو شروع کر دیا ہے۔

China Migranten Muslim & Kind

ایغور علیحدگی پسندوں کی نئی نسل مہاجر کیمپوں میں پروان چڑھ رہی ہے

سن 2015 سے چینی صوبے سنکیانگ سے کالعدم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) کے کارکن وسطی ایشیائی ریاستوں سے گزرتے ہوئے شورش زدہ ملک شام کی جانب روانہ ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد النصرہ فرنٹ کے ساتھ خیال کی جاتی ہے اور اِدلب اور حلب میں جہادی گروپ کی حالیہ کامیابیوں کو ایغور جنگجووں سے جوڑا جا رہا ہے۔ شام اور عراق میں خودساختہ اسلامی خلافت قائم کرنے والے دہشت گرد گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ میں ایک سو کے لگ بھگ ایغور جہادی شامل ہیں۔

ایغور جہادیوں کی سرگرمیوں کے تناظر میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے سینیئر افسر ایڈمرل گوان یُوفی نے رواں برس اگست میں شام کے دورے کے دوران شامی وزیر دفاع فہد جاسم الفریج کے ساتھ ملاقات میں شامی تنازعہ میں بیجنگ کے کردار پر گفتگو کی تھی۔ اس میٹنگ میں ایک اعلیٰ روسی فوجی اہلکار بھی موجود تھا۔ اسی طرح چین افغانستان میں بھی طالبان اور صدر اشرف غنی کی حکومت کے درمیان امن اور مصالحت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے اپنی سی کوششوں میں ہے۔

DW.COM