1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ایشین گیمز: پاکستان کی توقعات و خدشات

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایشین گیمز میں طلائی تمغے کے لئے پاکستانی عوام کی امیدیں ہاکی ٹیم جڑی ہوئی ہیں۔

default

گونزو ایشین گیمز کے لئے پاکستان نے 171 کھلاڑیوں پر مشتمل اپنا دستہ چین بھیجا ہے

عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے پاکستانی ہاکی حکام نے بین الاقوامی سطح پر ہاکی کی تاریخ میں سب سے زیادہ یعنی 306 گول کرنے والے سہیل عباس کو ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان ذیشان اشرف جنہوں نے ان گیمز کے بعد ہاکی کو خیر باد کہنے کا اعلان کیا ہے، اپنے دیگر ہم عصروں کے ساتھ کیریئر کے آخر میں پہلی فتح سمیٹنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا ہے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے33 سالہ فل بیک ذیشان اشرف نے کہا کہ ایشین گیمز ان کے لئے بہت اہم ٹورنامنٹ ہے کیونکہ اس میں فتح ٹیم کو براہ راست لندن اولمپکس تک پہنچا دے گی۔ انہوں نے کہا وہ اور دیگر سینئر کھلاڑی اس ایونٹ کو فتح کے ساتھ یادگار بنانے کے لئے پر عزم ہیں اور یہی ان کی ترجیح ہے۔ ذیشان نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ کے لئے انہوں نے اس بار خاص حکمت عملی ترتیب دی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ایشین گیمز میں ریکارڈ سات ٹائٹل جیتنے والی پاکستان ہاکی ٹیم نے آخری مرتبہ سن 1990ء میں گولڈ میڈل جیتا تھا جبکہ اسی سال اسے دہلی ورلڈکپ میں بدترین 12ویں اور کامن ویلتھ گیمز میں چھٹی پوزیشن مل سکی تھی۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کے منیجر خواجہ جنید، جنہوں نے بیس برس پہلے پاکستان کو گولڈ میڈل جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، یہ کہہ کر کہ تیاریوں میں حکام نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، وکٹری سٹنیڈ پر آنے کےلئے بال کھلاڑیوں کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔ خواجہ جنید نے کہا کہ ہاکی فیڈرییشن نے سلیکشن سے غیر ملکی کوچ اور سہولیات تک کوئی کسر نہیں چھوڑی، اب امید ہے کہ کھلاڑی بھی امیدوں پر پورا اتریں گے کیونکہ یہ ٹیم ہار جیت کے کئی دور دیکھنے کے بعد کافی تجربہ حاصل کر چکی ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم کوگروپ بی سے آگے بڑھنے کےلئے روایتی حریف بھارت، جاپان ، بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ کو زیر کرنا ہوگا۔

Zeeshan Ashraf

پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان ذیشیان اشرف

ایشین گیمز میں پہلی مرتبہ شامل کئے گئے کھیل کرکٹ کے ایونٹ کے لئے اوپنر خالد لطیف کی قیادت میں جس پاکستانی ٹیم کو چین بھیجا جا رہا ہے، اس میں صف اول کا کوئی کھلاڑی شامل نہیں، شاید اسی لئے کوچ صادق محمد بھارت کی عدم موجودگی کے باوجود فائنل تک رسائی کو ہی اپنا ہدف قرار دیتے ہیں۔ سابق ٹیسٹ اوپنر صادق محمد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ان کی ٹیم میں کپتان کے علاوہ، شرجیل خان اور لعل کمارسمیت کئی با صلاحیت کھلاڑی ہیں۔ ان کے بقول سری لنکا کو وہ فیورٹ سمجھتے ہیں لیکن پاکستانی ٹیم کو فائنل تک ضرور جانا چاہئے۔

باکسنگ میں عالمی لائٹ ویٹ عالمی چمپئین عامر خان کے چھوٹے بھائی ہارون خان کا زخمی ہونا پاکستان کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں مگر کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتنے والے محمد وسیم کی موجودگی سے باکنسگ ٹیم سے کافی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔

سکواش، ووشو، ویٹ لفٹنگ اور بیس بال کے کھلاڑیوں کے بھی تمغہ جیتنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تاہم پاکستان کی توجہ کا اہم مرکز وہ دو شہ زور محمد انعام اور اظہر حسین ہیں، جنہوں نے حال ہی میں دولت مشترکہ کھیلوں میں ملک کی لاج دو طلائی تمغوں کے ساتھ رکھی تھی۔ ایشین گیمز کی بابت اظہر حسین کہتے ہیں کہ انہیں گیمز کی تیاریوں کے لئے زیادہ موقع نہیں ملا مگر ان کی کوشش ہوگی کہ وہ ایران اور وسطیٰ ایشیائی پہلوانوں کو مات دے کر وطن کا پرچم بلندکریں۔

پاکستان نےدو ہزار چھ کے دوحہ ایشیائی کھیلوں میں چاندی کا ایک اور کانسی کے تین تمغے جیتے تھے مگر گونزوکے لئے رخت سفر باندھنے والے 171 رکنی والے دستے سے بہتر کارکردگی کی آس لگائی جا رہی ہے۔

رپورٹ : طارق سعید، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس