1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایشیا یورپ سربراہ اجلاس

ایشیا یورپ سربراہ کانفرنس شروع ہو گئی۔ کانفرنس میں عالمی مالیاتی بحران ، ماحولیات سرفہرست موضوعات ہوں گے۔

default

ایشیا یورپ سربراہ کانفرنس چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شروع ہو گئی ۔ کانفرنس میں تینتالیس ملکوں کے سربراہان شرکت کررہے ہیں۔ اس سے قبل کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے سربراہان کے اعزاز میں بیجنگ کے گریٹ ہال میں خیر مقدمی اجلاس ہوا۔

Asien Europa Treffen ASEM in Peking Gruppenfoto

چین میں ساتویں ایشیا یورپ سربراہی اجلاس کا افتتاحی سیشن شروع ہو گیا ہے۔ صدر ہوجن تاﺅ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ عالمی مالیاتی بحران کے باعث چین کی معاشی ترقی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا س وقت چین کی معیشت کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ چینی صدر نے کہا ’’ ہم عالمی مالیاتی بحران کا مقابلہ مضبوط باہمی اعتماد اور مربوط کوسسوں سے کر سکتے ہیں.‘‘

اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم ون جیابائو نے کہا کہ عالمی معاشی بحران مسلسل پھیلتا جا رہا ہے، اس سے عالمی معاشی پیداوار کو خطرات لاحق ہیں۔ ایشیا یورپ سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کررہے ہیں۔ سربراہی اجلاس میں عالمی معیشت کو درپیش مشکلات اور ان کا حل سر فہرست ہے۔

ASEM Arbeitsminister- Konferenz 2008 in Nusa Dua, Bali



اس اجلاس میں یورپ کے ستائیس اور ایشیا کے سولہ سربراہان اجلاس میں شرکت کیلئے بیجنگ پہنچے ہیں۔ جو دونوں براعظموں کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے کے اقدامات، عالمی معیشت میں استحکام ،ماحولیاتی تبدیلیوں کے علاوہ خطے میں امن اور تنازعات کے حل اور تجارتی مواقع بڑھانے پر غور کریں گے۔ اس موقع پر یورپی ، ایشیائی ملکوں اور چین کے درمیان مختلف تجارتی معاہدوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔

ASEM Arbeitsminister- Konferenz 2008 in Nusa Dua, Bali

اس سے قبل اپنے تین روزہ سرکاری دورہ چین کے دوسرے روزوفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جمعہ کے روز چینی صدر ہو جن تاؤ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں چینی صدر نےمئی میں چین میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کے لئے جرمن امداد پر چانسلر میرکل کا شکریہ ادا کیا۔ ہوجن تاؤنے کہا کہ یہ فوری امداد دونوں ملکوں کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات کا اظہار تھا۔

انگیلا میرکل نے کہا کہ جرمنی چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانا چاہتا ہے اورخاص طور پر موجودہ عالمی مالیاتی بحران میں ان تعلقات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ تاہم دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں اس وقت کچھ تناؤ پیدا ہو گیا تھا جب پچھلے برس جرمن چانسلر نے تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے ساتھ ان کے دورہ جرمنی کے دوران ملاقات کی تھی۔