1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ایشیا کے سب سے بڑے کتاب میلے کا آغاز

بھارت کا سب سے بڑا کتاب میلہ جمعہ سے شروع ہو گیا ہے، جسے جے پور لٹریری فیسٹیول کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ملک کی مغربی ریاست راجستھان میں منعقد کیا جاتا ہے۔

default

جے پور لٹریری فیسٹیول کو محض بھارت کا نہیں بلکہ ایشیا کا سب سے بڑا کتاب میلہ مانا جاتا ہے، جس میں جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے جانے مانے مصنفین شریک ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی مطالعے کا شوق رکھنے والے 30 ہزار افراد بھی اس نمائش کا رُخ کیا کرتے ہیں۔

یہ نمائش راجستھان کے ڈیگی پیلس میں منعقد کی جا رہی ہے، جو 19ویں صدی کی ایک عمارت ہے۔ اس مرتبہ اس تقریب کے خاص مہمانوں میں نوبل انعام یافتگان اورہان پاموک اور جے ایم کوئٹزی بھی شامل ہیں۔

Indische Frauen posieren am Dienstag, 3. Oktober 2006 in Frankfurt am Main auf der Frankfurter Buchmesse mit einem Buch ueber Indien vor Schriftzeichen aus verschiedenen indischen Regionen

ایک اندازے کے مطابق 30 ہزار افراد اس نمائش کا رُخ کیا کرتے ہیں

اس نمائش کی فضا عام طور پر غیررسمی ہوتی ہے اور یہاں منعقد مباحثوں کا انداز دھیما ہوا کرتا ہے، جن میں اکثر اوقات اس فیسٹیول کے روح رواں کہلانے والے برطانوی مؤرخ اور بھارتی امور کے ماہر ویلیم ڈارلمپل شریک ہوتے ہیں۔

انہوں نے 2006ء میں ہی یہ نمائش منعقد کرنا شروع کی تھی تاہم رواں برس ان پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے، جس کی ابتدا بھارتی نیوز میگزین ’اوپن‘ میں شائع ہونے والی ایک تحریر سے ہوئی۔ اس میگزین کی یکم جنوری کی اشاعت میں اس کے پولیٹیکل ایڈیٹر ہرتوش سنگھ بال نے سوال اٹھایا کہ گورے ادھیڑ عمر اسکاٹش شخص نے خود کو بھارت میں ادبی معیار کا مختارِ کُل کیسے بنا لیا ہے۔

ہرتوش سنگھ لکھتے ہیں، ’یہ کتاب میلہ ادبی انٹرپرائز کی وجہ سے کامیاب نہیں ہے بلکہ اس کے چرچے کی بنیاد برطانوی ادبی اسٹیبلشمنٹ سے ہمارا تعلق ہے۔‘

تاہم ویلیم ڈارلمپل نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیسٹیول کے دو تہائی مہمان بھارتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت میں ان کا آنا جانا گزشتہ 25 برس سے لگا ہوا ہے اور وہ اس ملک پر پانچ کتابیں لکھ چکے ہیں۔

ان کے بقول، ’اگر کوئی یہ کہہ دے کہ وکرم سیٹھ کو انگلینڈ پر ’این ایکول میوزک‘ جیسا ناول لکھنے کا حق نہیں تھا، تو اس بیان کو سرے سے نسل پرستی پر مبنی قرار دےدیا جائے گا۔‘

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس