1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایشیا کی ایک سو بہترین یونیورسٹیوں میں پاکستان شامل نہیں

رواں برس ایشیا کی ایک سو بہترین یونیورسٹیوں میں کوئی بھی پاکستانی تعلیمی ادارہ اپنی جگہ نہیں بنا سکا۔ کیا تعلیمی بجٹ میں کمی اس کی بنیادی وجہ ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق حاکم طبقات کی ساری توجہ سڑکیں اور پل بنانے پر ہے۔

کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی گلوبل رینکنگ کے مطابق پاکستان کا صرف لاہور انسٹیٹیوٹ فار مینیجمنٹ سائینسز (لمز) ایشیا کا ایک سو گیارہواں بہترین تعلیمی ادارہ ہے۔ تاہم ایک سو بہترین تعلیمی اداروں کی فہرست میں یہ بھی جگہ نہیں بنا سکا۔
اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈاکڑ فرحان حنیف صدیقی نے کہا، ’’دنیا بھر میں جامعات کے بین الاقوامی معیار کو جانچنے کے لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ وہاں کے محقیقن نے بین الاقوامی معیار کے کتنے تحقیقی مقالے لکھے ہیں اور ان کو کس طرح کے جرنلز میں شائع کیا گیا ہے کیوں کہ جرنلز کے معیار میں بھی فرق ہوتا ہے۔ اگر آپ کے مقالے کسی ایسے جرنلز میں شائع ہوئے ہیں، جس کا اثر علمی حلقوں میں بہت ہے اورآپ کے مقالے کا دوسرے محقیقین بڑے پیمانے پر اپنی تحقیقوں میں حوالہ بھی دے رہے ہیں تو ایسی صورت میں آپ کی تحقیق کی اہمیت بڑھے گی۔ اس کو بین الاقوامی ستائش حاصل ہوگی، جس کی وجہ سے یقیناً آپ جس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں، اس کی حیثیت پر فرق پڑے گا۔ اگر کسی یونیورسٹی کے لوگ بڑے پیمانے پر ایسے تحقیقی مقالے لکھتے ہیں، تو اُن کی رینکنگ یقیناً اوپر جاتی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسا نہیں ہو رہا، اس لئے رینکنگ بھی کم ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اگر ہم اپنی جامعات اور تعلیمی اداروں کی رینکنگ بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ریسرچ جرنلز میں اپنے تحقیقی مقالے چھپوانے چاہییں لیکن ایسے جرنلز میں مقالے چھاپنے کے سخت پیمانے ہوتے ہیں۔ ان کا مہینوں تک جائزہ لیا جاتا ہے اور یہ کام بھی نامی گرامی شخصیات کرتی ہیں، جس سے ایسے مقالوں کی علمی حیثیت بڑھتی ہے اور اِسے بین الاقوامی علمی و تحقیقی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘
معروف سائنسدان ڈاکڑ ثمر مبارک مند نے ڈی ڈبلیوسے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’پاکستانی تعلیمی اداروں کی رینکنگ نہ ہونے کی کچھ اہم وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی بجٹ بہت کم ہے، حکومت کی تعلیم کے شعبے پر کوئی خاص توجہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں تعلیم اداروں کی فیسیں معاف کی جارہی ہیں اور ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ فیس بڑھا کر جامعات کے اخراجات پورے کریں۔ دنیا بھر میں تعلیمی ادارے اپنی فیکلٹی کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں۔ ہماری فیکلٹیاں مضبوط نہیں ہیں۔ ہماری لائبریریاں اور سائنسی لیب عالمی معیار کی نہیں ہیں۔ ایسے آڈیٹوریم نہیں ہیں، جہاں بین الاقوامی معیار کی کانفرنسیں کرائی جاسکیں اور مختلف مسائل پر بحث و مباحثہ کیا جا سکے۔‘‘

Pakistan Schule Unterricht im Park in Islamabad

ملک میں تعلیم کو ترقی کا انجن نہیں سمجھا جاتا بلکہ حاکم طبقات کی ساری توجہ سڑکیں، پل اور ڈیمز بنانے پر ہے


انہوں نے کہا کہ کچھ اچھی پاکستانی یونیورسٹیوں کو قائم ہوئے بہت زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے جیسے کہ غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی۔ ’’میرا خیال ہے کہ کئی نجی تعلیمی ادارے مستقبل میں بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’جب میں پلاننگ کمیشن میں تھا اور ایچ ای سی سے متعلق معاملات دیکھ رہا تھا تو ہم نے پچیس سو اسکالرشپ دیں، جس میں تقریباﹰ ایک ہزار بیرون ملک کے لئے تھیں۔ دو ہزار گیارہ اور بارہ میں تقریباﹰ دس ہزار کے قریب اسکالر شپس دی گئیں، جن میں پندرہ سو کے قریب باہر کے لئے تھیں۔ اگر آپ اپنے محقق کو بہتر سہولیات نہیں دیں گے تو وہ تحقیق کیسے کرے گا۔‘‘
پریسٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر بکر نجم الدین نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’ڈاکٹرعطا الرحمان کے دور میں ایچ ای سی سائنس کے شعبے پر بہتر وسائل خرچ کر رہی تھی لیکن اب وہ صورتِ حال نہیں ہے کیونکہ ہمارے ملک میں تعلیم کو ترقی کا انجن نہیں سمجھا جاتا بلکہ حاکم طبقات کی ساری توجہ سڑکیں، پل اور ڈیمز بنانے پر ہے۔ تحقیق کے لئے ایک ماحول چاہیے ہوتا ہے۔ اس کا ایک کلچر ہوتا ہے، جو ہمیں بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی ترجیحات کو تعلیم نواز بنانا پڑے گا۔ رٹا سسٹم ختم کرنا ہوگا اور محقق کومالی ترغیبات بھی دینی پڑیں گی۔‘‘
سماجی و تعلیمی امور کے معروف تجزیہ نگار ڈاکڑ مہدی حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اقوام متحدہ کے کہنا یہ ہے کہ ایک ملک اپنی جی ڈی پی کا کم از کم چار فیصد تعلیم پر خرچ کرے۔ ہمارے ہاں اڑسٹھ سال کی شرح، جو ہم نے تعلیم پر خرچ کی ہے، وہ 1.8 ہے۔ صرف 1996ء میں تعلیم پر 2.8 فیصد رقم تعلیم پر خرچ کی گئی تھی۔ کئی مرتبہ حکومتوں نے اس مسئلے پر اجلاس بلائے۔ کئی تجاویز و سفارشات پیش کی گئیں لیکن وہ سب فائلوں کی نظر ہوگئیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا ہاں کسی شخص کی اہمیت کا پیمانہ تعلیم نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کے پاس دولت کتنی ہے، گاڑی کتنی مہنگی ہے، وہ کتنے مرلے کے بنگلے میں رہتا ہے اور کون سے برانڈ کے کپڑے پہنتا ہے۔ جس سماج میں کسی شخص کی اہیمیت کا اندازہ ان پیمانوں کی بنیاد پر کیا جائے گا، وہ سماج تعلیم پر کیوں خرچ کرے گا۔‘‘