1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایشیا پیسیفک: چینی اثر و رسوخ میں اضافہ، نئی امریکی پریشانی

ایک ایسے وقت میں، جب امریکہ اپنے فوجی بجٹ میں 350 بلین ڈالر کی کٹوتی سمیت متعدد مالیاتی اصلاحاتی منصوبوں کا آغاز کر رہا ہے، ایشیا پیسیفک کے خطے کے ماہرین نے علاقے میں امریکی فوجی موجودگی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

default

ایشیا پیسیفک کے علاقے میں چین اپنی فورسز کے پھیلاؤ میں مصروف ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں اس علاقے میں چین نے اپنے فوجی اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ فوجی بجٹ میں بڑی کٹوتی کے حوالے سے اس وقت امریکی ماہرین یہ سوچ رہے ہیں کہ اس تکلیف کے اثرات کو کس طرح کم سے کم سطح پر لایا جائے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بحر الکاہل میں امریکی بحری نقل وحرکت میں زیادہ کمی علاقے میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے انتہائی خطرناک ہو گی۔ ماہرین کے مطابق یہ علاقہ اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس علاقے میں جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن اور آسٹریلیا، امریکہ کے ایسے حلیف ممالک ہیں، جن کے ساتھ واشنگٹن نے کئی اہم معاہدے کر رکھے ہیں۔

Hillary Clinton Ankunft in Seoul

امریکی اور جاپانی دفاعی مبصرین کے مطابق چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اس علاقے میں امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے لیے ایک بڑے چیلنج کی سی حیثیت کی حامل ہے۔

جاپان کی تائیکو یونیورسٹی کے پروفیسر اور ریٹائرڈ جنرل Toshiyuki Shikata کا کہنا ہے، ’مجھے امید ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ سے اپنے فوجیوں کا انخلاء عمل میں لائے گا، مگر ایشیا پیسیفک میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے سبب امریکہ کے لیے اس خطے میں اپنی فوجی طاقت میں کمی، نہ تو اتنی آسان ہو گی اور نہ ہی سود مند‘۔

جاپانی یونیورسٹی اوساکا سے تعلق رکھنے والے دفاعی امور کے ماہر Kazuya Sakamoto کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایشیا میں اپنی فوجی طاقت میں کمی کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ’امریکی دور اب ختم ہوا‘۔

امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پینٹاگون 350 بلین ڈالر کی کٹوتی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ میں ریاستی قرضوں کی سطح میں اضافے کے لیے کی جانے والی حالیہ ڈیل میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اگلے دس برس میں کس طرح حکومتی اخراجات کے ساتھ ساتھ فوجی بجٹ میں کمی کی جائے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM