1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایشیا میں معاشی ترقی کی شرح توقع سے زیادہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے جمعرات کے روز ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت توقع سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے۔ تاہم اس رپورٹ کے مطابق بہت سے مالیاتی خطرات ابھی بھی باقی ہیں۔

default

آئی ایم ایف کی طرف سے اسی برس اپریل میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ سال 2010ء کے دوران عالمی معیشت میں بہتری کی شرح 4.1 فیصد رہے گی۔ تاہم تازہ رپورٹ میں اس متوقع بہتری کی شرح 4.5 فیصد بتائی گئی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سرمایہ کاری سے متعلقہ امور کے سربراہ Jose Vinals نے ہانگ کانگ میں کہا کہ سال 2010ء کے دوران ایشیائی معیشت توقع سے بڑھ کر تیز رفتاری سے ترقی کرے گی۔

اس سال اپریل میں سال 2010ء کے لئے چین میں اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ 10 فیصد لگایا گیا تھا۔ تاہم اب IMF نے یہ ممکنہ اضافہ بڑھا کر 10.5 فیصد بتایا ہے۔ اسی طرح نئے اندازوں کے مطابق بھارتی معیشت بھی 9.4 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔ قریب تین ماہ پہلے بھارتی اقتصادیات کے بارے میں یہ اندازہ 8.8 فیصد لگایا گیا تھا۔

Wirtschaft in China Blick auf Schanghai

سال 2010ء کے لئے چین میں اقتصادی ترقی کی شرح کا تازہ تخمینہ 10.5 فیصد لگایا گیا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے ان دو سب سے بڑے ممالک میں اقتصادی کارکردگی میں بہتری کی وجہ سے مجموعی طور پر پورے ایشیا کی معاشی صورتحال میں بہتری کا اندازہ بھی اب مزید اضافے کے ساتھ 7.5 فیصد لگایا گیا ہے۔ سال رواں کی دوسری سہ ماہی کے آغاز پر براعظم ایشیا میں اقتصادی ترقی کی شرح کا 2010 کے لئے تخمینہ سات فیصد لگایا گیا تھا۔

تاہم آئی ایم ایف کے مطابق اگلے سال یعنی سن 2011ء کے دوران جب مختلف ملکوں میں مالیاتی اداروں کو دیا گیا امدادی پیکج واپس لے لیا جائے گا، تو ایشیا کی اقتصادی ترقی کی شرح نسبتاﹰ کم ضرور ہوگی مگر وہ پائیدار ہوگی۔ اس لئے اگلے برس کے لئے ایشیائی معیشت میں ترقی کی شرح کا اندازہ 6.8 فیصد لگایا گیا ہے۔

دوسری طرف ہانگ کانگ میں آئی ایم ایف کے مشیر برائے معاشی امور اولیور بلانشرڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین کے اقتصادی فیصلے قابل ستائش ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’چین کی طرف سے اپنی مصنوعات کی ملک کے اندر ہی طلب بڑھانے اور اپنی کرنسی یوآن کی قدر پر کنٹرول نرم کرنے جیسے فیصلے قابل تعریف ہیں۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM