1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایشیا میں قمار بازی کی صنعت ترقی پاتی ہوئی

کسی کیسینو یا قمار خانے میں جہاں جوئے باز ایک طرف اپنے انفرادی شوق کی تسکین کرتے ہیں، وہیں ان جوئے خانوں کی وجہ سے متعلقہ علاقے کی معیشت میں نمو بھی پیدا ہوتی ہے۔

default

شاید اسی لیے اب ایشیائی ممالک میں بھی قمار خانوں کے قیام کو اچھا شگون سمجھا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے بقول ایشیائی ممالک میں معیشی ترقی کی وجہ سے قمار بازی کی صنعت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ پرتگال کی سابقہ نو آبادی مکاؤ نے اس صنعت میں ریونیو کے حوالے سے لاس ویگاس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس علاقے کو کیسینو انڈسٹری کے باعث کروڑوں ڈالر کی آمدنی ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب وہاں مزید قمار خانے بھی کھولے جا رہے ہیں۔

کئی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد جو جوئے کے شوقین یا عادی ہیں، وہ مکاؤ میں اپنے شوق کی تسکین کرتے ہیں۔ اسی طرح اب ویت نام، بھارت، نیپال اور دیگر ممالک میں بھی جوئے بازی کی صنعت کو فروغ مل رہا ہے۔ ہانگ کانگ میں CLSA سے وابستہ گیمبلنگ کے تجزیہ نگار ایرن فشر کے مطابق کئی ایشیائی ملکوں میں جوئے بازی کی روایات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں اس صنعت کو مزید فروغ حاصل ہو گا۔

China Macau Casino MGM Grand Macau

ایم جی ایم گرانڈ مکاؤ کیسینو کا ایک منظر

گزشتہ برس مکاؤ میں قمار بازی کی صنعت سے ہونے والی آمدنی کی مجموعی مالیت 23.52 بلین امریکی ڈالر رہی تھی، جس میں 2009ء کے مقابلے میں 58 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اسی طرح سنگاپور میں جہاں 2010ء میں دو کیسینو کھولے گئے تھے، وہاں رواں برس کے دوران اب تک 6.5 بلین ڈالر کی کمائی دیکھی گئی ہے۔

قمار بازی کی صنعت کے امریکی تجزیہ نگار جوناتھن گلاویز کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ برس تک قانونی جوئے بازی کی صنعت کے حوالے سے ایشیا امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ گزشتہ برس سنگار پور میں سیاحوں کی تعداد قریب 11.6 ملین تک دیکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہاں کی معیشت میں 15 فیصد شرح ترقی نوٹ کی گئی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وہاں سیاحت کے لیے جانے والوں کی نظروں میں قمار بازی ہمیشہ ہی ایک بہت دلکش امکان ہوتا ہے۔

ابھی تک ایشیا کے کئی دیگر ممالک میں جوئے کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی۔ اس لیے کئی ایشیائی ریاستوں سے لوگ جوئے کے ذریعے قسمت آزمانے کے لیے دیگر ممالک کا رخ کرتےہیں۔ تاہم اب یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ قمار خانوں کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ لوگ اپنے ملک میں ہی پیسہ لگائیں اور ان کی اس مصروفیت سے ان کے اپنے ملکوں کو ہی فائدہ پہنچے۔

بھارت کے بعد اب جاپان میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ وہاں باقاعدہ قانونی اجازت کے بعد کیسینو کھولے جائیں اور اس صنعت کو بھی وہاں کی قومی معیشتوں کا حصہ بننے کا موقع دیا جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM