1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایشیا میں سیاسی، اقتصادی اور طاقت کی جنگ

بھارت ایشیا میں اپنی سیاسی اور اقتصادی دھاک بٹھانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اسلحہ خریدنے کے حوالے سے گزشتہ پانچ برسوں سے دنیا بھر میں سر فہرست ہے۔

default

پیر کو سٹاک ہوم کے انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی رپورٹ کے مطابق بھارت ایشیا اور مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی خریداری کے معاملے میں روایتی خریداروں چین، سعودی عرب، پاکستان، جنوبی کوریا، اسرائیل، مصر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

Indischer Soldat mit Bofor Waffe

بھارت چین کو بھی ایک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے

سپری کے سینئر فیلوسیمن وے سمن کہتے ہیں کہ سن 2006 سے2010 کے درمیان دنیا کے نو فیصد ہتھیار بھارت نے خریدے ہیں۔ ان میں سے 82 فیصد اسلحہ بھارت نے اپنے روایتی اتحادی روس سے خریدا ہے۔ ویسے دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والے چار بڑے ممالک کا تعلق ایشیا سے ہے۔ ان میں بھارت نو فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر، چین اور جنوبی کوریا چھ فیصد کے ساتھ دوسرے اور پاکستان پانچ فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ سپری رپورٹ کے مطابق یہ ملک مستقبل میں بھی روایتی ہتھیاروں اور خاص طور سے لڑاکا طیاروں اور نیول سسٹم کی درآمد جاری رکھیں گے۔

بھارت کی طرف سے فوجی ساز و سامان کی خریداری کی سب سے بڑی وجہ پاکستان اور چین کے ساتھ کشیدہ تعلقات بتائے جاتے ہیں۔وےسمن کہتے ہیں، ’’26 نومبر 2008 ءکو ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس خدشے کو مزید تقویت ملی ہے کہ پاکستان بھارت کے لیے واقعی ایک خطرہ ہے۔‘‘

دوسری طرف بھارت چین کو بھی ایک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے۔ وے سمن کے مطابق ایشیا اور دنیا میں بڑی طاقت بننے کی بھارتی خواہش اور چین کے ساتھ مقابلہ بازی بھی اسحلہ کی خریداری کی ایک اہم وجہ ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارت سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کے لیے بھی تگ ودو جاری رکھے ہوئے ہے۔

Flash-Galerie Atommächte weltweit

بھارت ہتھیاروں کی خریداری کے معاملے میں روایتی خریداروں چین، سعودی عرب، پاکستان، جنوبی کوریا، اسرائیل، مصر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے کہیں آگے نکل چکا ہے

بھارت کی آبادی 1.2 ارب ہے اور اس کا سالانہ دفاعی بجٹ 20-25 ارب ڈالر ہے۔ اس میں سے 9.2 ارب ڈالر بّری فوج کے لیے، 5.6 ارب ڈالر فضائیہ کو جاتے ہیں جبکہ 3.4 ارب ڈالر بحریہ کے لیے مختص ہیں۔ اس کے مقابلے میں چین کا سالانہ فوجی بجٹ 90 ارب ڈالر کے آس پاس ہے۔ یہ اعداد وشمار سرکاری اندازوں پر مبنی ہے جبکہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ فوجی بجٹ امریکہ کا ہے۔ امریکہ اپنی فوج پر ہر سال تقریبا 660 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔

وےسمن کے بقول بھارت میں تجزیہ کار بھی یہ کہتے ہیں کہ بھارتی فوج کا جدید خطوط پر استوارکیا جانا بے حد ضروری ہے۔ پرانے ہتھیاروں کی جگہ جلد از جلد جدید ترین ہتھیار لانے ہوں گے تاکہ اس سے بھارتی فوج کی صلاحیت پر کوئی اثر نہ پڑے۔ تبھی بھارت چین اور پاکستان کے ساتھ فوجی طاقت کا توازن برقرار رکھ سکتا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM