1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایشیا میں خریداری کے رجحان اور دولت میں اضافہ

سنگاپور کے شہری ایڈریئن ٹین پہلے ہی دو مرسیڈیز گاڑیوں کے مالک ہیں اور اب وہ تیسری گاڑی خریدنا چاہ رہے ہیں۔ چھتیس سالہ یہ تاجر مرسیڈیز، آؤڈی یا پھر بی ایم ڈبلیو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔

default

سنگاپور میں یہ گاڑیاں ارزاں نرخوں پر دستیاب نہیں اور ٹیکس ملا کر کر ان کی قیمت ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ ہے ایک جھلک ایشیا کے نوجوان متمول افراد کی، جو پرانی نسل کے افراد کے مقابلے میں اشیائے صرف اور پرتعیش سامان کی خریداری پر کہیں زیادہ رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں۔

ایشیا میں پرتعیش گاڑیوں، مہنگے علاقوں میں گھروں اور نوادرات اور زیورات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ میرل لِنچ کی حالیہ سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2010ء میں ایشیا میں کروڑ پتی افراد (10 لاکھ ڈالر سے زائد قابل صرف آمدنی کے حامل) کی تعداد بڑھ کر 33 لاکھ اور ان کی دولت 10.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں یورپ میں ان فراد کی تعداد 31 لاکھ اور ان کی دولت 10.2 ٹریلین ڈالر تھی۔

Shanghai World Financial Center China Schanghai bei Nacht Flash-Galerie

ایشیا میں خریداری کے رجحان اور دولت میں اضافہ ہو رہا ہے

سنگاپور میں بی ایم ڈبلیو جیسی مہنگی کار کے صرف ایک ڈیلر ہر ماہ 350 کے قریب گاڑیاں فروخت کرتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ، مکاؤ، تائیوان اور چین میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں اس کی فروخت میں 60 فی صد اضافہ ہوا۔

متمول ایشیائی باشندوں کی خریداری کی ترجیحات میں پہلی چیز املاک ہے۔ اس طرح کے قصے عام ہیں کہ سنگاپور کا کوئی باشندہ تعطیلات منانے آسٹریلیا گیا تو وہاں ایک اپارٹمنٹ خرید کر آ گیا۔ حالیہ دنوں میں ایشیائی باشندوں کا پہلا انتخاب لندن میں املاک خریدنا ہے کیونکہ پاؤنڈ کی گرتی ہوئی قدر اور سرمایہ محفوظ ہونے کے باعث ان کے لیے یہ خریدنا آسان ہے۔ سٹی پرائیویٹ بینک کے چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ برائے ایشیا پیسیفک جان ووڈز نے کہا، ’’ایشیا میں خطرناک اثاثوں میں خریداری پر آمادگی کا رجحان زیادہ ہے۔‘‘

Nokia N9

چین میں کروڑ پتی حیثیت نہ رکھنے والے افراد میں بھی خریداری کا جنون بڑھ رہا ہے

خریداری کا جنون

سرمایہ کاری کو چھوڑ کر بھی ایشیا میں خریداری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایشیا میں کریڈٹ سوئس کے پراڈکٹ مینیجر جہانزیب نصیر نے کہا، ’’ایشیا کی ایک اور بڑی معیشت بھارت کے انتہائی امیر افراد میں خریداری کا جنون پایا جاتا ہے مگر چین میں کروڑ پتی حیثیت نہ رکھنے والے افراد بھی ایسا کر رہے ہیں۔‘‘

ماسٹر کارڈ ورلڈ وائیڈ کے پورش سنگھ کا کہنا ہے کہ 14 ایشیائی ملکوں کے دولت مند باشندوں نے گزشتہ سال ایک ٹریلین ڈالر سے زائد رقم سامان کی خریداری پر خرچ کی۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM