1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایشیا میں جبری طور پرغائب افراد کی تعداد میں اضافہ

انسانی حقوق کی ایک ایشیائی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ چین، انڈونیشیا اور بھارت سمیت کئی اوردیگرممالک میں انسانی حقوق کے لئےکام کرنے والے کارکنان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

default

اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا اجلاس اس سال پہلی مارچ کو جنیوا میں شروع ہوا، جہاں انسانی حقوق کی جبری طور پر غائب ہوجانے والے افراد کے حوالے سے بات چیت کی۔Asian Federation Against Involuntary Disappearances کی سیکریڑی جنرلAileen D Bacalso نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔

ڈوئچے ویلے کوایک خصوصی انٹرویومیں Bacalso نے بتایا کہ ایشیا میں جبری طور پر غائب کئے جانے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایشیائی ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو کام کرنے میں بہت سے دشواریوں کا سامنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جبری طورپرغائب کئے جانے والے افراد کے لئے کام کرنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ ان جرائم میں خود ریاستی اہلکار اور ریاستیں ملوث ہوتی ہیں۔

Bacalso کے بقول ایشیا کے کئی ممالک میں ان کی تنظیم کے لئے کام کے حالات سازگار نہیں ہیں۔ پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرمیں ان کے ایک رکن کو نہ دھمکی دی گئی بلکہ گزشتہ سال اُس کے گھر کو بم سے اڑادیا گیا کیونکہ اس نے جبری طورپرغائب ہونے والے افراد کے لئے رپورٹ بنائی تھی۔ اس کی زندگی اب بھی خطرے میں ہے۔

Indien Kaschmir Proteste

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق تشویش ظاہر کی گئی ہے

انہوں نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا میں ان کی تنظیم کے سابق چیئرپرسن منیر2004 میں نیدرلینڈ جارہے تھے لیکن انہیں دورانِ سفر ہی زہر دے کر ہلاک کردیا گیا۔ اس طرح کے بہت سی اورمثالیں ہیں جہاں ان افراد کو ان کے کام کی وجہ سے دھمکیاں دی گئی یا ہراساں کیا گیا۔

Bacalsoکا کہنا تھا کہ چین سمیت کئی ممالک میں ان کی تنظیم کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔Tiananmen Mothers نامی ایک تنظیم کے مطابق چین میں 4000 لوگوں کو جبری طور پرغائب کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب جنیوا میں جبری طور پرغائب ہوجانے والے افراد کے مسئلے پر بات چیت ہوئی، تو سب سے زیادہ مشکل چین سے مذاکرات کرنے پر ہوئی کیونکہ بیجنگ قومی سلامتی کے نام اس مسئلے کو نظر انداز کرنا چاہتا ہے۔ اسی لئے تو لوگ جبری طور پرغائب ہوجاتے ہیں۔ ان تمام دشواریوں کے باوجود Bacalso کی تنظیم اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ : عبدالستار

ادارات: عابد حسین