1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایشیا میں بینکوں کی اجارہ داری کی جنگ

ایشیائی ترقیاتی بینک کے قیام کو پچاس برس ہونے والے ہیں۔ جاپان اور امریکی اثرو رسوخ والے اس بینک کے مقابلے میں چین اپنا ایک ایسا ہی ادارہ قائم کر چکا ہے۔ امریکی ورلڈ بینک ان علاقائی بینکوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اس وقت شدید دباؤ میں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کی پچاس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کے سالانہ اجلاس کا انعقاد جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں کیا جا رہا ہے۔

انیس سو ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں جب اس بینک کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی تو امریکا اس کے خلاف تھا۔ اس وقت دلیل یہ پیش کی جاتی تھی کہ جب ورلڈ بینک موجود ہے تو دنیا کو علاقائی بینک کی کیوں ضرورت ہے؟ 1944ء میں ورلڈ بینک کے قیام کے بعد سے ترقیاتی منصوبوں کی فنانسگ عالمی بینک کرتا آ رہا تھا اور اس بینک میں امریکی اثر و رسوخ سب سے زیادہ تھا۔ عالمی بینک واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہے اور روایتی طور پر اس کے سربراہ کا بھی ایک امریکی شہری ہونا ضروری ہے۔

اسی دوران ویتنام جنگ کی وجہ سے امریکا پر دباؤ بڑھا اور امریکی صدر لِنڈن بی جانسن نے اپنا موقف تبدیل کر لیا اور اس طرح سولہ دسمبر 1966ء میں فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی بنیاد رکھ دی گئی۔

طاقت کس کے پاس ہے؟

ایشیائی ترقیاتی بینک بھی عالمی بینک کی طرز پر بنایا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں بھی ایک ملک کا غلبہ ہے۔ 1966ء سے اس بینک کا سربراہ کوئی جاپانی شہری ہی چلا آ رہا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے سب سے زیادہ شیئرز بھی جاپان ہی کے پاس ہیں۔ اس طرح جاپان کو 12.8 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ ویٹو پاور حاصل ہے۔ اس کے بعد امریکا اس بینک کے 12.7 فیصد شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

China AIIB Entwicklungsbank Jin Liqun

امریکا اور جاپان کو خوف ہے کہ ایشیا میں ان کا اثرو رسوخ کم ہو سکتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ابھی تک چینی بینک کا حصہ نہیں بنے ہیں

اس بینک کے 67 رکن ملک ہیں اور ان میں سے اڑتالیس کا تعلق ایشیا سے ہے۔ اس کے علاوہ انیس ممالک کا تعلق ایشیا سے نہیں ہے اور ان میں امریکا، کینیڈا، جرمنی اور یورپی ممالک شامل ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک پر جاپان اور امریکا کا غلبہ ہے اور اس کے قیام کے بعد سے یہ بات مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ چین ایشیا کی سب سے اہم معیشت ہے اور اس کا ووٹنگ کا حق صرف 5.5 ہے۔ یہ جرمنی سے کچھ زیادہ ہے۔ چین متعدد مرتبہ اس کے شیئر ہولڈنگ کے ڈھانچے میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کر چکا ہے لیکن ابھی تک ناکام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اس کے مقابلے میں اپنا بینک لے آیا ہے۔ اس کا نام ایشیائی انفراسٹرکچر اور انوسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) ہے۔

حریف بینک

امریکا اور جاپان کو خوف ہے کہ ایشیا میں ان کا اثرو رسوخ کم ہو سکتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ابھی تک چینی بینک کا حصہ نہیں بنے ہیں۔ لیکن ان کے برعکس ایشیا کے سینتیس ممالک اور اس خطے سے باہر بیس ممالک چین کے ساتھ ’’ممکنہ بانی ممالک کا معاہدہ‘‘ کر چکے ہیں اور ان میں متعدد یورپی ملک بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک اپنا دائرہ کار مزید وسیع اور کار آمد بنانا چاہتا ہے تاکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہو۔ اس بینک نے مختلف منصوبوں کی قرض دینے کی شرح بڑھا کر چالیس فیصد تک کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

فرینکفرٹ کے اجلاس میں اگر بورڈ آف گورنرز نے اس منصوبے کی منظوری دے دی تو سن دو ہزار سترہ سے اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ جرمنی میں اس اجلاس کا ایک مقصد مزید جرمن اداروں کو حصے دار بنانا بھی ہے۔