1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایشیا شدید سردی کی لہر میں

براعظم ایشیا اور براعظم یورپ کے وسیع تر علاقوں میں بہت سی ریاستوں کو ان دنوں گزشتہ کئی عشروں کی انتہائی سخت ترین سردی کی لہر کا سامنا ہے۔

default

بنگلا دیشی دارالحکومت دھند میں لپٹا ہوا

مشرق بعید میں جاپان میں شدید برفباری ہوئی ہے اور درجہء حرارت نقطہء انجماد سے کافی نیچے چلا گیا ہے۔ چین اور جنوبی کوریا جیسے ملکوں میں گزشتہ چند روز سے اتنی زیادہ سردی پڑ رہی ہے، جتنی پچھلے قریب پچاس برسوں میں دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

چینی دارالحکومت بیجنگ اس ہفتہ کے آغاز ہی سے منجمد کر دینے والی سردی کی گرفت میں ہے اور بیجنگ اور اس کے نواح میں واقع چینی شہر پوری طرح برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔

فشر نامی ایک شہری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’میں بیجنگ میں ہوں، اور یہاں بہت برفباری ہوئی۔ چند بڑی شاہرہیں اب ٹریفک کے لئے صاف کی جا چکی ہیں۔ مگر حکومت ہر کسی کو محتاط رہنے کے لئے کہہ رہی ہے۔ سکول بند ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کم ہے۔ لیکن سڑکوں پر بہت زیادہ پھسلن کے باعث ٹریفک بہت سست رفتار ہے۔ حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرم جگہوں پر رہیں اور سردی سے بچنے کے لئے کافی گرم کپڑے پہنیں۔‘‘

جزیرہ نما کوریا پر بھی پیر کے دن سے شدید برفباری ہو رہی ہے۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں بھاری ٹریفک کے اوقات میں عام شہریوں کو آمدورفت میں بے تحاشا مشکلات کا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ حکام کو اندرون ملک پروازوں کے لئے استعمال ہونے والا مرکزی ایئر پورٹ Gimpo بھی تمام پروازوں کے لئے بند کرنا پڑ گیا۔

China Beijing Tiananmen Schnee Flash-Galerie

اس مرتبہ چین کےکئی علاقوں میں ریکارڈ برف باری ریکارڈ کی گئی

پیر کی صبح دو بجے کے قریب موسم انتہائی خراب تھا۔ کئی پروازوں میں بہت دیر ہو گئی اور بہت سی منسوخ کر دی گئیں۔ سردی ابھی بھی بہت ہے لیکن پروازوں کی آمدورفت کافی بہتر ہو گئی ہے۔

بھارت میں سردی کے ہاتھوں اب تک قریب ایک سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کی اکثریت یعنی 72 افراد کا تعلق ریاست اتر پردیش سے تھا، جہاں حکومت نے ضرورت مند شہریوں میں کمبل اور جلانے کے لئے لکڑی تقسیم کرنے کا سلسلہ تو شروع کر رکھا ہے، مگر یہ کوششیں ابھی تک ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔

بھارت میں شملہ اور کئی دیگر شہروں کے علاوہ ریاست جموں و کشمیر میں بھی شدید برفباری دیکھنے میں آئی، جہاں کم سے کم درجہء حرارت منفی 18.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں گرمائی دارالحکومت سری نگر میں مشہور زمانہ ڈل جھیل پوری طرح جم گئی۔

اسی سردی کے باعث بھارت کے وسیع تر علاقوں اور پاکستان کے بیشتر حصوں میں انتہائی گہری دھند نے بھی معمول کی زندگی کو بری طرح سے متاثر کیا۔ ان حالات میں شاہراہوں پر ٹریفک اور ریل گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ پاکستان میں کئی شہروں میں موٹر وے کو جزوی طور پر احتیاطاً بند کر دیا گیا تھا۔ آج منگل کے روز لاہور اسلام آباد موٹر وے دوبارہ کھول دی گئی، مگر ڈرائیوروں کو انتہائی کم رفتاری سے سفر کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

یورپی ملکوں میں سے اس وقت برطانیہ، جرمنی، فرانس اور پولینڈ خاص طور پر ایسی غیر معمولی سردی کی لپیٹ میں ہیں، جو ماہرین موسمیات کے مطابق گزشتہ ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ اس وقت مشرقی اور مغربی یورپ کے کئی ملک برف کی ایک موٹی تہہ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ جرمنی میں، جہاں متعدد مقامات پر درجہء حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے تک گر گیا، کئی بڑی شاہراہیں عام ٹریفک کے لئے معمول کے مطابق استعمال نہیں کی جا رہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM