1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایشیائی ممالک کی زرعی سرمایہ کاری افریقہ میں

شہر کاری، آبادی میں اضافے اور سرسبز علاقوں کے بنجر ہو جانے جیسی ماحولیات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے سبب بہت سے ایشیائی ممالک زرعی سرمایہ کاری کے مواقع کی غرض سے افریقہ کی طرف رُخ کر رہے ہیں۔

default

بنگلہ دیش کے ایک گاؤں میں کاشت کاری کا منظر

اس ضمن میں افریقی ممالک کی چند ایشیائی ریاستوں، مثلاً چین کے ساتھ اُنہی خطوط پر ڈیلز ہو رہی ہیں، جن پرنوے کے عشرے میں ہوئی تھیں۔ تاہم اب دیگر ایشیائی ممالک بھی اس رجحان کو اپنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش بھی اب افریقہ میں سرمایہ کاری کرنے والے اہم ایشیائی ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے۔

بنگلہ دیش اور چند افریقی ممالک کے مابین زرعی سرمایہ کاری کے شعبے میں متعدد معاہدے طے پائے ہیں۔ ان میں ایک ملک یوگنڈا بھی ہے۔ نیتول نیلوی گروپ کے چئیرمین عبدلمطلوب احمد کا ماننا ہے کہ یہ ایشیا کے غریب ممالک کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کا بہترین موقع ہے۔ اس امید پر کہ دیگر بنگلہ دیشی کمپنیاں بھی افریقہ میں سرمایہ کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی، عبدلمطلوب احمد نے حال ہی میں بنگلہ دیش افریقہ بزنس فورم کی بنیاد رکھی ہے۔ یوگنڈا کے ساتھ اس وقت بنگلہ دیش نے 10 ہزار ہیکٹر پر پھیلی ہوئی قابل کاشت زمین کا سودا کیا ہے۔ اس کی قیمت 15 ملین ڈالر ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس پروجیکٹ سے روز گار کی 25 ہزار نئی آسامیاں، جن میں زیادہ ترلوکل باشندے شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ 31 ملین امریکی ڈالر کی مدد سے سالانہ چاول کی کاشت ممکن ہوگی۔ وہ کہتے ہیں’جیسے ہی ہم چاول کی کاشت کا مرحلہ مکمل کر لیں گے، ہم کپاس کی کاشت کو محفوظ کرنے کی طرف بڑھیں گے۔ ہمارے ہاں گارمنٹ انڈسٹری بہت بڑی ہے اور ہمیں بہت زیادہ سوت کی ضرورت ہے۔ اُس کے بعد باری آتی ہے شکر کی۔ ہماری آبادی 160 ملین ہے اور ہمیں بہت زیادہ شکر درکار ہے‘۔

Ehemalige Binnenflüchtlinge in Uganda

افزیقی ممالک غذا کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں

تاہم بنگلہ دیش یوگنڈا میں نہ تو زمین خرید رہا ہے نہ ہی کرائے پر لے رہا ہے بلکہ محض وہاں کاشت کاری کر رہا ہے۔ عبدلمطلوب احمد کے مطابق یوگنڈا کے کھیتوں میں کی جانے والی چاول کی کاشت کا 20 فیصد وہیں یعنی مہمان ملک میں رہے گا اور 80 فیصد بنگلہ دیش بھیج دیا جائے گا۔

جرمنی کی غذا کے حقوق کی تنظیم FIAN اکثر یہ دلیل دیتی ہے کہ اس قسم کے معاہدوں سے غربت کے شکار براعظم افریقہ کی صورتحال ابتر ہوگی۔ اس تنظیم کے ایک عہدیدار رومان ہیرے کے بقول’ایسی ڈیلز عموماً نجی سرمایہ کاری کے ذریعے کی جاتی ہیں اور اس کا بنیادی مقصد ایکسپورٹ ہوتا ہے۔ اس امر کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے کہ جب زمین کا بیشتر حصہ مقامی لوگوں سے لے لیا جائے گا، تو ان کا انحصار غذائی درآمدات پر اور بڑھے گا‘۔

Weltwassertag Pakistan Manchar See

پاکستان ہو یا بھارت، یا پھر بنگلہ دیش، جنوبی ایشیائی ممالک میں پانی ایک اہم مسئلہ ہے

مقامی لوگوں سے اُن کی زمین چھن جانے کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ پانی کے ذرائع سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔ احولیات اور ترقی کی بین الاقوامی تنظیم آئی آئی ای ڈی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی زمینوں کا زرعی مقاصد کے لیے حصول مزید چیلنجز اور پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس