1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ایشن فارمولہ ریسنگ میں پہلے پاکستانی کی دوڑ

عدنان سرور ایشین فارمولہ ریسنگ چیمپئن شپ کے لئے منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی ڈرائیور بن گئے۔ عدنان اگلے ماہ چین میں شروع ہونے والے ایونٹ میںپاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

default

فارمولہ ون ریسنگ کے لئے ٹویوٹا کی کار

انتیس سالہ عدنان سرور نے اس سنگ میل کو اپنی شب و روز کی محنت اور صبر آزما انتظار کا نتیجہ قرار دیا۔

ڈوئچے ویلے ر یڈیو اور آن لائن کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوے عدنان سرور نے کہا: ’’موٹر سپورٹس ایک ایسا کھیل ہے جس کا پاکستان میں کوئی پس منظر نہیں۔ اس لئے مجھے اس مقام تک پہنچے کے لئے بڑے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔ ریس کی اینٹری فیس اور سفری اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ میں نے کئی دروازے کھٹکٹائے، بہت انتظار کیا۔ اب سالہا سال کی جد وجہد کے بعد بینک الفلاح کی جانب سے ملنے والی سپانسر شپ نے میری مشکل آسان کر دی ہے۔ میں پہلا پاکستانی اور جنو بی ایشیاء سے چوتھا ریسر ہوں جسے ایشین فارمولہ ریسنگ چیمپین شپ کے لئے منتخب کیا گیا اور اس پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا۔‘‘

ایشیائی فارمولہ ریسلنگ چیمپئن شپ 2009کی میزبانی چین، ملائشیا اور جاپان کریں گے۔

سات ریسز پر مشتمل ایونٹ کا آغاز یکم مارچ سے چین کے شہرژوئی سے ہوگا، جس میں 20کاروں کے سوار ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کے لئے نبر دآزما ہوں گے۔

عدنان نے بتایا کہ ایشین فارمولہ چیمپئن شپ، یورپ کے مقابلے میں چار گنا سستا رہتا ہے، اس لئے اس میں دنیا بھر سے سرکردہ ڈرائیور شریک ہوتے ہیں۔ عدنان نے سخت مقابلے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ میں جیت کا دعویٰ کرکے اپنے ہم وطنوں کو قبل ازوقت امید دلانے کے حق میں نہیں۔ دوسرے ممالک کے سواروں کے مقابلے میں مجھے پریکٹس کا وقت کم ملے گا تاہم محتاط ابتداء کے بعد چھٹے اور اختتامی مرحلے میں کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاؤں گا۔

ڈاکٹر بننے کے بعد شوق پر اپنے پیشے کو قربان کرنے والے عدنان سرور نے بتایا کہ انہوں نے موٹر سپورٹس کی ابتداء کراچی میں گوکارٹنگ کے ساتھ کی تھی بعد ازاں وہ آسٹریلیا چلے گئے اور وطن واپسی پر جب ان کی اے ون جی پی کے لئے سلیکشن ہوئی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ عالمی سطح پر ایک کامیاب ڈرائیور بن سکتے ہیں۔گز شتہ برس بھارت میں ہونے والی انڈین فارمولہ ریسنگ چیمپئن شپ میں انہوں نے عمدہ کاردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ عدنان سرور سے پہلے نور علی اور آدم خان اے ون جی پی میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں مگر وہ دونوں دیار غیر (بر طانیہ اور امریکہ) میں پیدا ہوئے تھے اور انہی ملکوں کے شہری بھی ہیں۔